***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان > قربانی کے جانور

Share |
سرخی : f 774    جانور کے بچہ کاحکم
مقام : بنگلہ دیش,
نام : محمد فاروق
سوال:    

قربانی کا جانور خریدنے کے بعد وہ بچہ جنم دے تو اُسے کیا کرنا چاہئے ، بچہ کو بھی ذبح کرنا ضروری ہے یا نہیں ؟ کیا ہم اُسے بیچ سکتے ہیں یا پالنے کے لئے رکھ کر آئندہ سال قربانی کے لئے لے سکتے ہیں؟ ایک صاحب نے کہا کہ اُسے صدقہ کردینا چاہئے ، صحیح مسئلہ کیا ہے تفصیل سے بیان فرمائیں، مہربانی ہوگی ۔


............................................................................
جواب:    

قربانی کا جانوراگر بچہ جنم دے تو بچہ کوذبح کیا جائے یا صدقہ کیا جائے؟ اس سلسلہ میں فقہاء کرام نے مالداراور تنگدست کے لئے علٰحدہ علٰحدہ وضاحت کی ہے ، اگر صاحب قربانی تنگدست ہوتو اُس کے لئے حکم شریعت یہ ہے کہ جانورکے بچہ کولازمی طورپرذبح کرے‘ مالدار کے لئے ایام قربانی میں ذبح کرنا ہی ضروری نہیں بلکہ اُسے اس بات کا اختیار ہے کہ ذبح کرے یا زندہ صدقہ کردے ، اگر وہ بچہ کو ذبح نہیں کیا اور نہ صدقہ کیا یہاں تک کہ ایام قربانی گزرگئے تو اب صدقہ کرنا،واجب ہے ، اُسے فروخت کیا ہوتو اس کے عوض حاصل ہونے والی قیمت صدقہ کردے۔ اگر اُسے ذبح نہیں کیا‘فروخت بھی نہیں کیا اور نہ صدقہ کیا یہاں تک کہ ایک سال گزرا پھر ایام قربانی آگئے اور وہ قربانی کے قابل رہے تو ایسی صورت میں اُسے اِس سال کی قربانی کے لئے ذبح کرے تو جائز نہیں، اس سال کی قربانی کے لئے دوسرا جانورذبح کرنا ہوگا، چونکہ اُسے زندہ صدقہ کرنا ضروری تھا اس کے بجائے ذبح کردیا گیا ‘لہذا ذبیحہ کو صدقہ کردے اور ذبح کرنے کی وجہ سے جس قدر قیمت کم ہواتنی رقم صدقہ کرے۔ فتاوی عالمگیری ، ج5، کتاب الاضحیۃ ، الباب السادس فی بیان ما یستحب فی الاضحیۃ والانتفاع بھا میں ہے : فی أضاحی الزعفرانی فإن ولدت ولدا ذبحہا وولدہا معہا ، من أصحابنا من قال : ہذا فی المعسر الذی وجب بإیجابہ ، أما فی الموسر فلا یلزمہ ذبح الولد یوم الأضحی ، فإن ذبح الولد یوم الأضحی قبل الأم أو بعدہا جاز ، ولو لم یذبحہ وتصدق بہ حیا جاز فی أیام الأضاحی ، وفی المنتقی لو تصدق بالولد حیا فی أیام النحر فعلیہ أن یتصدق بقیمتہ ، وإن باع الولد فی أیام الأضحی یتصدق بثمنہ ، فإن لم یبعہ ولم یذبحہ حتی مضت أیام النحر فعلیہ أن یتصدق بالولد حیا۔ وإن بقی الولد عندہ حتی کبر وذبحہ للعام القابل أضحیۃ لا یجوز وعلیہ أخری لعامہ الذی ضحی ، ویتصدق بہ مذبوحا مع قیمۃ ما نقص بالذبح ، والفتوی علی ہذا کذا فی فتاوی قاضی خان واللہ أعلم . واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com