***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان > قربانی کے جانور

Share |
سرخی : f 775    جانورکی زبان کٹی ہوتواسکا کیا حکم ہے ؟
مقام : کولکتہ,
نام : واصف علی
سوال:    

میں ایک بکرا خریدا جو موٹا فربہ ہے لیکن اس کی زبان کٹی ہوئی ہے ، میں نے قربانی کے ارادہ سے اُسے خریدا ہے ، کیا میں اُس بکرے کی قربانی دے سکتا ہوں ؟ واضح ہوکہ مجھ پر قربانی واجب ہے ۔ برائے مہربانی شرعی رہنمائی فرمائیں کہ زبان کٹی ہوئی گائے یا بکرے کی قربانی صحیح ہوتی ہے یا نہیں؟


............................................................................
جواب:    

قربانی کے لئے فربہ،صحیح وسالم جانورکا انتخاب کرنا چاہئے ، زبان کٹی ہوئی ہونا بکری میں عیب نہیں البتہ گائے میں اس کو عیب شمار کیا گیا ہے‘ فقہاء نے وجہ یہ بیان کی ہے کہ بکری دانتوں سے چارہ کھاتی ہے اس لئے اس کے حق میں زبان کا کٹا ہونا عیب نہیں، اس کے برخلاف گائے چونکہ زبان سے چارہ کھاتی ہے اس لئے یہ اس میں عیب شمار کیا گیا ہے لہذا بکری کی زبان کٹی ہوئی ہو تو ازروئے شریعت قربانی درست ہے اور اگر گائے کی زبان کٹی ہوئی ہو تو یہ دیکھا جائے کہ کتنی زبان کٹی ہوئی ہے؟ اگر زبان کا ایک تہائی سے زائد حصہ کٹا ہواہو تو شرعاًاس کی قربانی درست نہیں، اگر اس سے کم کٹی ہوتو جائز ہے۔ ردالمحتار کتاب الاضحیۃ میں ہے : تجوز التضحیۃ بالمجبوب العاجز عن الجماع ۔ ۔ ۔ والتی لا لسان لہا فی الغنم خلاصۃ:أی لا البقر لأنہ یأخذ العلف باللسان والشاۃ بالسن کما فی القہستانی عن المنیۃ وقیل إن انقطع من اللسان أکثر من الثلث لا یجوز أقول وہو الذی یظہر قیاسا علی الأذن والذنب بل أولی لأنہ یقصد بالأکل وقد یخل قطعہ بالعلف تأمل۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔ 14-11-2010

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com