***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان

Share |
سرخی : f 778    کیا اجتماعی قربانی میں بوقت ذبح سب کا موجود ہونا ضروری ہے؟
مقام : رنجن کالونی,
نام : محمد دستگیر
سوال:     مفتی صاحب ! میرا سوال یہ کہ شہر میں کثرت کے ساتھ اجتماعی قربانی کا نظم ہے ،تو کیا ایسی صورت میں تمام شرکاء کا بوقت ذبح حاضر رہنا ضروری ہے یانہیں ؟ جواب ضرور عنایت فرمائیں ،موجب تشکر ہوگا۔
............................................................................
جواب:     اجتماعی قربانی کی صورت میں تمام شرکاء اگر کسی کو وکیل بنالیں تو بوقت ذبح ان کا موجود رہنا ضروری نہیں‘انکی جانب سے وکیل اگر قربانی کردے تو جائز ہے اور اصالۃً قربانی کرنے کی صورت میں تمام شرکاء کا موجود رہنا ضروری ہے بلکہ جانورکولٹانے اور فعل ذبح میں بھی شریک ہوںتو بہتر ہے جیساکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر تمام شرکاء کو شریک فرمالیا تھا۔ کنز العمال میں حدیث پاک ہے:
  عن أبی الأسد السلمی عن أبیہ عن جدہ قال کنت سابع سبعۃ مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأمرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجمع کل واحد منا درہما، فاشترینا أضحیۃ بسبعۃ دراہم، فقلنا: یا رسول اللہ لقد أغلینا بہا، فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: إن أفضل الضحایا عند اللہ أغلاہا وأنفسہا فأمر النبی صلی اللہ علیہ وسلم رجلا فأخذ بید ورجلا بید ورجلا برجل ورجلا برجل ورجلا بقرن ورجلا بقرن، وذبحہا السابع وکبرنا علینا جمیعا قال بقیۃ فقلت لحماد بن  زید من السابع؟ قال لا أدری فقلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم. "کر".
ترجمہ: حضرت ابواسد سلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں‘ انہوں نے فرمایا: میں حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدمت اقدس میں  سات افراد میں سے ایک تھا‘ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا تو ہم میں سے ہر ایک نے ایک ایک درہم جمع کرکے سات درہم کے بدلہ ایک جانور خریدا، پھر ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یقینا ہم نے اسے گراں قیمت میں خریدا ہے، تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالی کے پاس افضل قربانی وہ ہے جو سب سے زیادہ قیمتی اور سب سے زیادہ عمدہ ہو۔ پھر حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم میں ایک صاحب کو حکم فرمایا تو انہوں نے جانور کا ایک ہاتھ پکڑا، دوسرے صاحب کو دوسرا ہاتھ پکڑنے کا حکم فرمایا ، ایک اور صاحب کو ایک پیر پکڑنے اور دوسرے صاحب کو دوسرا پیر پکڑنے کا حکم فرمایا، ایک صاحب کو ایک سینگ اور دوسرے صاحب کو دوسری سینگ پکڑنے کا حکم فرمایا، اور ساتویں ذات گرامی نے اسے ذبح فرمایا اور ہم سب نے تکبیر کہی ۔ بقیہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے حضرت حماد بن زید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: وہ ساتویں ذات گرامی کون تھیں؟ انہوں نے کہا : میں نہیں جانتا۔ تو میں نے کہا: وہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ (کنز العمال‘ کتاب الحج من قسم الأفعال‘ باب فی واجبات الحج ومندوباتہ‘ حدیث نمبر 12693)۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com