***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 78    سرخ و سیاہ خضاب کا حکم
مقام : گلبرگہ شریف,
نام : (عبد المنعم
سوال:     بعض عمر رسیدہ حضرات بالوں کو اور ڈاڑھی  میں لال خضاب لگاتے ہیں اور بعض کالا خضاب بھی لگاتے ہیں- میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کونسا خضاب لگانا جائز ہے؟  کوئی کالا خضاب اس غرض سے لگاتا ہے کہ اس کی طرف اس کی بیوی کی رغبت ہو،کیا یہ جائز ہے؟
میں نے سنا کہ ایسی صورت میں گنجائش نکلتی ہے،کیا یہ صحیح ہے؟

............................................................................
جواب:     بالوں کے لئے خضاب استعمال کرنا درست وجائز ہے، سیاہ خضاب لگانے سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا چناچہ صحیح مسلم شریف ج2،کتاب اللباس،ص 199،میں حدیث پاک ہے
:عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ أُتِيَ بِأَبِي قُحَافَةَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَرَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ كَالثّغَامَةِ بَيَاضًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيِّرُوا هَذَا بِشَيْءٍ وَاجْتَنِبُوا السَّوَادَ-

ترجمہ:سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا فتح مکہ کے دن حضرت ابو قحافہ رضی اللہ عنہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں لائے گئے جب کہ ان کا سر اور ڈاڑھی  سفید پھولوں کی طرح سفید تھی، حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اس سفیدی کو کسی چیز سے بدل دو اور سیاہ رنگ سے گریز کرو!
(صحیح مسلم شریف ج2،کتاب اللباس،ص 199،باب استحباب خضاب الشيب بصفرة أو حمرة وتحريمه بالسواد, حدیث نمبر:3925)
لھذا  سیاہ خضاب لگانا مکروہ ہے، اب رہا یہ سوال کہ اگر کوئی صاحب سیاہ خضاب اس غرض سے لگاتے ہیں کہ ان کی اہلیہ انہیں پسند کریں تب بھی سیاہ خضاب ان کے لئے مکروہ ہی ہوگا، جیساکہ فتاوی عالمگیری ج5،ص 359، ،میں ہے
: اتَّفَقَ الْمَشَايِخُ رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّ الْخِضَابَ فِي حَقِّ الرِّجَالِ بِالْحُمْرَةِ سُنَّةٌ وَأَنَّهُ مِنْ سِيمَاءِ الْمُسْلِمِينَ وَعَلَامَاتِهِمْ وَأَمَّا الْخِضَابُ بِالسَّوَادِ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْ الْغُزَاةِ لِيَكُونَ أَهْيَبَ فِي عَيْنِ الْعَدُوِّ فَهُوَ مَحْمُودٌ مِنْهُ ، اتَّفَقَ عَلَيْهِ الْمَشَايِخُ رَحِمَهُمْ اللَّهُ تَعَالَى وَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ لِيُزَيِّنَ نَفْسَهُ لِلنِّسَاءِ وَلِيُحَبِّبَ نَفْسَهُ إلَيْهِنَّ فَذَلِكَ مَكْرُوهٌ وَعَلَيْهِ عَامَّةُ الْمَشَايِخِ وَبَعْضُهُمْ جَوَّزَ ذَلِكَ مِنْ غَيْرِ كَرَاهَة-
(فتاوی عالمگیری ج5،ص 359،,كتاب الكراهية, الباب العشرون في الزينة واتخاذ الخادم للخدمة)
           واللہ اعلم بالصواب -
                                                                      مفتی سید ضیاء الدین
                                                                                               نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
        
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com