***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان

Share |
سرخی : f 782    کیا ایک بکری تمام گھر والوں کی طرف سے کافی ہے؟
مقام : ,
نام :
سوال:     میں نے ایک حدیث شریف سنی ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے تمام گھروالوں کی جانب سے ایک بکری کی قربانی فرمائی ۔ کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟ اگر یہ حدیث ہے تو کیا ہم ایک بکری میں ایک گھر کے تمام لوگوں کی طرف سے قربانی صحیح ہوتی ہے ؟ مجھے اس کے بارے میں تفصیل بتلائیں ۔ آپ کا بے حد مشکور رہوں گا۔  
............................................................................
جواب:     واجب قربانی کے لئے بکری یادنبہ ایک سے زائد افراد کی جانب سے جائز نہیں، جیسا کہ سنن ابن ماجہ شریف میں مذکور، حدیث پاک سے معلوم ہوتاہے: عن ابن عباس ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم اتاہ رجل فقال ان علی بدنۃ وانا موسر بہا ولااجدہا فاشتریہا فامرہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان یبتاع سبع شیاہ فیذبحہن۔ ترجمہ:سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک صاحب حاضر ہوئے اور عرض کیا: (سات افراد کی طرف سے قربانی کرنے کے لئے) میرے ذمہ ایک اونٹ ہے، میں اس کی استطاعت رکھتا ہوں جب کہ مجھے خریدنے کے لئے اونٹ نہیں مل رہے ہیں؟ تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ سات بکریاں خریدیںاور انہیں ذبح کریں۔( سنن ابن ماجہ شریف،کتاب الاضاحی ، باب کم یجزیٔ من الغنم عن البدنۃ،ص226، حدیث نمبر:3256)اس روایت کو محدث دکن ابوالحسنات حضرت سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری رحمۃ اللہ علیہ نے زجاجۃ المصابیح ج1،باب فی الاضحیۃ ، ص405!406 میں نقل فرمایاہے۔
اگر بکری کی قربانی سات افراد کی جانب سے جائز ہوتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشادفرماتے کہ سات افراد کی جانب سے قربانی کے لئے اونٹ نہیں مل رہا ہو تو ایک بکری خریدکر سات افراد کی جانب سے قربانی کے لئے ذبح کردو، لیکن حضورپاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم نہیں فرمایا بلکہ سات بکریاں خریدکر ذبح کرنے کا حکم فرمایا۔  
نیز بکری میں گائے اور اونٹ کی طرح شرکت کی گنجائش ہوتی تو جس طرح گائے اور اونٹ کے بارے میں ارشاد مبارک ہے: البقرۃ عن سبعۃ والجزور عن سبعۃ۔ ترجمہ: گائے سات افراد کی جانب سے ہے اور اونٹ سات اشخاص کی جانب سے ہے۔ (سنن ابوداؤد شریف ج2،کتاب الضحایا،باب البقروالجزورعن کم تجزیٔ ص388 ،حدیث نمبر:2810) اسی طرح بکری کے بارے میں بھی ارشاد مبارک ہوتا کہ بکری سات افراد کی جانب سے ہے، لیکن کتب حدیث میں ایسی کوئی روایت احقر کی نظر سے نہیں گزری کہ جسمیں یہ ارشاد فرمایاہوکہ ایک بکری سات افراد کی طرف سے قربانی کرسکتے ہیں ۔
اب رہا وہ روایت جس میں مذکور ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بیت کرام کی طرف سے ایک دنبہ اور اپنی امت کی طرف سے ایک دنبہ ذبح فرمایا‘ تو دراصل یہاں قربانی کے ثواب میں اُنہیں شریک فرمالینا تھا ‘جیسا کہ سنن ابن ماجہ شریف میں حدیث پاک ہے: عن عائشۃ و عن ابی ہریرۃ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کان اذا اراد ان یضحی اشتری کبشین عظیمین سمینین اقرنین املحین موجوأین فذبح احدھما عن امتہ لمن شہد للہ بالتوحید و شھد لہ بالبلاغ و ذبح الاٰخر عن محمد و عن اٰل محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔
ترجمہ: سیدتنا عائشہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب قربانی کرنے کا ارادہ فرماتے تو دو بڑے، فربہ، سینگ والے، چتکبرے، خصی مینڈھے خریدتے ‘اُن میں سے ایک اپنی امت کی جانب سے ان لوگوں کے لئے ذبح فرماتے جنہوں نے اللہ کے لئے توحید کی گواہی دی اور آپ کے لئے تبلیغ رسالت کی گواہی دی اور دوسرا خود اپنی جانب سے اور اپنی اٰل پاک کی جانب سے ذبح فرماتے۔ (سنن ابن ماجہ شریف ،ابواب الاضاحی ،باب اضاحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ص 225!226، حدیث نمبر:3113)
اس روایت سے یہ بات واضح ہورہی ہے کہ اس قربانی کے اجروثواب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اٰل پاک کو شریک فرمالیا،چنانچہ اس کا مفہوم بیان کرتے ہوئے محشیٔ سنن ابن ماجہ صاحب انجاح الحاجۃ نے لکھا: وتأویل حدیث الباب انہ صلی اللہ علیہ و سلم أراد اشتراک جمیع أمتہ فی الثواب تفضلا منہ علی أمتہ۔ ترجمہ:تمام امت کی جانب سے ایک دنبہ ذبح فرمانے کا مطلب یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت پر کرم فرماتے ہوئے تمام امت کو ثواب میں شریک فرمایا۔ (انجاح الحاجۃ شرح سنن ابن ماجہ،ص226)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک بکری کی قربانی کے ثواب میں ایک سے زائد بلکہ سات سے زائد جتنے افراد کو شریک کرنا‘ چاہیں درست ہے،لیکن ہر صاحب نصاب کو اپنی طرف سے مستقل قربانی دینی ضروری ہے اور واجب قربانی کرنے کی صورت میں ایک بکری ایک ہی شخص کی طرف سے ہوگی‘ ایک سے زیادہ کی جانب سے نہیں‘ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے رقم فرمایا: واجمعوا علی ان الشاۃ لا یجوز الاشتراک فیہا۔ ترجمہ: علماء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ بکری کی قربانی میں شرکت درست نہیں۔ (شرح مسلم للنووی‘ ج 1،کتاب الحج‘ باب الاشتراک فی الہدی وإجزاء البقرۃ والبدنۃ کل منہما عن سبعۃ،ص424) نیز انجاح الحاجۃ حاشیۂ سنن ابن ماجہ‘ ابواب الاضاحی‘ ص226 میں بھی اسی طرح کی عبارت مذکور ہے۔
  واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com