***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان

Share |
سرخی : f 783    جانورخرید نے کے بعد کوئی عیب آجائے تو کیا کرنا چاہئے؟
مقام : ,
نام : نصیر
سوال:     میں نے قربانی کے لئے ایک گائے خریدی ، گائے کو گاڑی میں ڈالنے کے دوران اس کا اگلا پیر ٹوٹ گیا ،اب میں کیا کروں ؟ کیا میں اس گائے کی قربانی دے سکتا ہوں ؟
............................................................................
جواب:     اگر کوئی شخص قربانی کے لئے جانور خرید ا،بعدازاں اس جانو رمیں کوئی ایسا عیب ونقص پیدا ہوگیا جس کے ہوتے ہوئے قربانی جائز نہیں ہوتی، تواس سلسلہ میں شریعت اسلامیہ نے دو صورتیں بیان کی ہیں: (1)قربانی دینے والے دولتمنداور صاحب استطاعت ہونی کی بناء واجب قربانی دے رہے ہوں توانکو چاہئے کہ وہ اس عیب د ار جانور کی قربانی نہ کریں بلکہ قربانی کے لئے دوسرا صحیح وسالم جانو رخرید یں ۔ (2)اس کے برخلاف اگر وہ صاحب استطاعت و مالدار نہ ہوں، صرف نفل قربانی کی نیت سے جانور خریدے ہوں تو چونکہ وہ جانور خرید نے کی وجہ سے قربانی کیلئے متعین ہوچکاہوتاہے،لہذا انکے لئے حکم شریعت یہ ہیکہ وہ اسی جانو رکی قربانی کریں جسے انہوں نے قربانی کی نیت سے خریدا تھا‘اگر چہ کہ خرید نے کے بعد اس میں کوئی عیب پیدا ہوگیا ہو۔  
جیساکہ درمختار برحاشیۂ ردالمحتار ج5،کتاب الاضحیۃ ،ص229میں ہے:  (ولواشتراہا سلیمۃ ثم تعیبت بعیب مانع )کمامر(فعلیہ اقامۃ غیرہا مقامہا ان )کان(غنیاوان )کان (فقیرااجزاہ ذلک)۔اور ردالمحتار ج5کتاب الاضحیۃ ص229 میں ہے:  لانہا انماتعینت بالشراء فی حقہ حتی لواوجب اضحیۃ علی نفسہ بغیرعینہا فاشتری صحیحۃ ثم تعیبت عندہ فضحی بہا لا یسقط عنہ الواجب لوجوب الکاملۃ علیہ کالموسر زیلعی۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com