***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان

Share |
سرخی : f 784    جانور کے کونسے اعضاء کھانا درست نہیں
مقام : ,
نام :
سوال:     قربانی کے جانور کے جن اعضاء کو کھانا ‘صحیح نہیں وہ کیا ہیں ؟ وضاحت فرمائیں ،اگر مادہ جانور ہوتو کیا جانور کادودھ استعمال کیا جاسکتاہے ؟  
............................................................................
جواب:     فقہاء کرام نے عام طورپر ذبیحہ سے سات چیزوں کا کھانا شرعاً مکروہ قراردیاہے اور فتاوی عالمگیری ج6،ص445 میں آٹھ چیزوں کو مکروہ بتلایاگیاہے : (1) بہتا خون، (2) شرم گاہ نر، (3) کپورے، (4) شرمگاہ مادہ، (5) غدود، (6)مثانہ، (7) پتہ ،(8)حرام مغز۔
ردالمحتار ج5 ،کتاب الاضحیۃ ،ص 219 میں ہے:ما یحرم أکلہ من أجزاء الحیوان الماکول سبعۃ الدم المسفوح والذکروالانثیان والقبل والغدۃ والمثانۃ والمرارۃ بدائع۔
نیز فتاوی عالمگیری ، ج6،ص445 میں ہے: کرہ من الشاۃ الحیاء والخصیۃ والغدۃ والمثانۃ والمرارۃ والدم المسفوح والذکر والنخاع الصلب کذا  فی الکنز۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com