***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان

Share |
سرخی : f 786    قرض دار کے لئے قربانی کا حکم
مقام : ریاض,
نام : محمد جمیل ،
سوال:     میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا قرض دار پر قربانی کرناواجب ہے ،اس لئے میرے پڑوسی نے کہا کہ قربانی قرض دار پر بھی ضروری ہے ۔ تفصیل بتلائیں تومہربانی ہوگی۔  

............................................................................
جواب:     کسی شخص کے پاس نصاب کے بقدر مال ہے اور وہ مقروض بھی ہے ‘ایسی صورت میں یہ دیکھا جائے کہ اس کے مال سے قرض ادا کیا جائے تو اس کے پاس حاجت اصلیہ کے علاوہ نصاب کے بقدر مال یا سامان باقی رہتا ہے یا نہیں۔ اگر اسکے مال سے قرض کی منہائی کے بعد وہ نصاب کا مالک رہتا ہے تو اس پر قربانی واجب ہوگی ۔
جس پر قربانی واجب ہے ،اگر اس شخص کے پاس فی الحال نقد رقم نہ ہو تب بھی قرضۂ حسنہ لے کر یا پھر ضرورت سے زائد جو سامان ہے اُسے فروخت کرکے قربانی کرنی ہوگی۔ اگر قرض کی ادائیگی کے بعد وہ صاحب نصاب نہیں رہتا تو قربانی واجب نہیں۔
فتاوی عالمگیری ج5،کتاب الاضحیۃ ،الباب الاول فی بیان من تجب علیہ ومن لاتجب،292 میں ہے ولوکان علیہ دین بحیث لو صرف فیہ نقص نصابہ لاتجب۔ ترجمہ: اگر کسی کے ذمہ اتنا قرض ہوکہ وہ قرض اداکرنے کی صورت میں اس کا نصاب کم ہوجاتا ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com