***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > قربانی کا بیان

Share |
سرخی : f 787    چرم قربانی کامصرف
مقام : انڈیا,
نام : سید احمد اقبال
سوال:     عیدالاضحیٰ کے موقع پر بعض مساجد کے منتظمین حضرات مساجد کی تعمیر کیلئے چرم قربانی وصول کرتے ہیں اور مالیہ نہ ہونے کی صورت میں چرم کی رقم سے امام وموذن کی تنخواہیں دیتے ہیں۔ اسی طرح دینی جلسوں کا انتظام کرنے کیلئے بھی چرم وصول کئے جاتے ہیں۔ ونیز دینی مدارس کیلئے غریب بچوں اور بیواؤں میں تقسیم کرنے کیلئے مسلم نعشوں کی تجہیزوتکفین کے لئے فلاحی کام انجام دینے کیلئے بھی چرم کی وصولی کی جاتی ہے۔ بعض لوگ چرم قصاب کی مزدوری میں دیتے ہیں۔ ازراہ مہربانی بتلائیں کہ شریعت نے قربانی کا مصرف کیا بیان کیا ہے۔ کیا مذکورہ اغراض میں چرم کی رقم دینا درست ہے؟
............................................................................
جواب:     قربانی کا گوشت یا چرم قصاب کو بطور مزدوری دینا درست نہیں، اگر چرم قربانی کا تبادلہ ایسی چیز سے کیاجائے جو استعمال کرنے سے ختم ہوجاتی ہے تو ایسی چیز سے چرم کا تبادلہ کرکے وہ چیز استعمال کرنا شرعاً جائز نہیں جیسے رقم کے عوض چرم دینا‘ ظاہر ہے کہ رقم اسی وقت استعمال کی جاسکتی ہے جب وہ کسی کو دے کر اسکے عوض مطلوبہ چیز حاصل کی جائے۔ لہذا رقم کے عوض چرم کا تبادلہ (فروخت) کرکے رقم استعمال کرنا ازروئے شرع درست نہیں۔
چرم کا تبادلہ رقم کے عوض کیا جائے تو اس کی رقم تنگدستوں اور ضرورتمندوں کو دینا ضروری ہے، اس صورت میں اس کا حکم وہی ہے جو صدقۂ فطرکا ہے یعنی مستحق حضرات کو اسکا مالک بنانا، بنابریں چرم کی رقم غریب ونادار بچوں اور ضرورتمند بیوہ خواتین کو دی جاسکتی ہے جب کہ وہ سادات نہ ہوں ونیز اقامتی دینی مدارس وجامعات کے مستحق طلبہ کو دینا‘ جائز ودرست ہے بلکہ بہتر ومستحب ہے اور دوہرے ثواب کا باعث ہے۔ ایک تو مستحق کو پہنچانے کا ثواب ‘ دوسرے دینی تعلیم میں تعاون اور علم دین کی نشرواشاعت کا ثواب۔
چونکہ مستحق حضرات کو اسکا مالک بنانا ضروری ہے اس لئے یہ جائز نہیں کہ چرم قربانی کو مساجد کی تعمیر میں،امام وموذن کی تنخواہوں میں، اساتذہ کے مشاہرے میں ،دینی جلسوں کے انتظام کے لئے، مقررین وخطباء کے نذرانوں میں، فلاحی کاموں کی انجام دہی کیلئے اور مسلم نعشوں کی تجہیزوتکفین میں صرف کیا جائے‘ کیونکہ ان تمام صورتوں میں بلاکسی عوض کے کسی مستحق کو مالک بنائے جانے کا مفہوم نہیں پایا جارہا ہے، اس لئے یہ درست نہیں۔
چرم قربانی کو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھتے ہوئے استعمال کیا جائے تو شریعت مطہرہ میں اسکی اجازت ہے جیسے اس سے مشکیزہ ‘ جائے نماز ‘ کوٹ‘ ٹوپی یا دسترخوان وغیرہ بنالے تو کوئی مضائقہ نہیں اسی طرح چرم قربانی کے بدلہ دیگر کوئی ایسی چیز لینا درست ہے جو استعمال کرنے پر بھی جوں کی توں باقی رہتی ہو جیسے کتاب وغیرہ۔ چرم قربانی کسی کام کے عوض نہیں دی جاسکتی لہذا قصاب کی مزدوری میںچرم دینا شرعاًجائز نہیں۔  
درمختار برحاشیہ ردالمحتار ج5،کتاب الاضحیۃ،231میں ہے:   (ویتصدق بجلدھا اویعمل منہ غربال وجراب) وقربۃ وسفرۃ ودلو(اویبدلہ بما ینتفع بہ باقیا) کمامر(لابمستھلک) کدراھم (فان بیع اللحم اوالجلدبہ) ای بمستھلک(اوبدراھم تصدق بثمنہ ۔۔ ۔ ولایعطی اجر الجزارمنھا) لانہ کبیع۔

ترجمہ : چرم قربانی کو صدقہ کیاجائے یا اس سے چھلنی‘ تھیلی‘مشکیزہ‘ دستر خوان اور ڈول جیسی چیزیں بنالی جائے ‘  یا اسکوایسی چیز سے تبدیل کیا جائے جو باقی رہتی ہو‘ استعمال کی وجہ سے ختم ہونے والی چیزوں سے تبدیل کرناجائز نہیں جیسے دراہم‘ اگر گوشت یا چرم رقم کے عوض فروخت کیا ہے تو اس کی قیمت خیرات کردے۔
بالعموم چرم قربانی کو فروخت کیا جاتا ہے اور فروخت کرنے کی صورت میں اس کی رقم واجب التصدق ہوجاتی ہے اس لئے وہ مستحق افراد کو دینا ضروری ہے، اگر چرم قربانی کی رقم اس کے صحیح مصرف میں نہیں پہنچائی جائے توقربانی متاثر ہوجاتی ہے۔
واللہ اعلم بالصواب ۔
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com