***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > سود کا بیان

Share |
سرخی : f 800    ضرورت کے وقت سودی قرض لینے کا شرعی حکم  
مقام : انڈیا,
نام : داؤداحمد
سوال:     مجھے قرض سے متعلق سوال کرنا ہے، بات یہ ہے کہ مجھے پیسوں کی سخت ضرورت تھی جس کی وجہ سے میں نے لون لیا جسکا ہر مہینہ 700روپئے انٹرسٹ اداکرنا پڑتا ہے کیا اس طرح قرض لینا میرے لئے جائز ہے؟ میں نے یہ قدم اس لئے اٹھایا کہ میری والدہ کی طبیعت خراب تھی ڈاکٹرس نے کہا کہ آپریشن کے سوا کوئی چارہ نہیں، اور میرے پاس رقم موجود نہیں تھی میں قرض حسنہ حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہبوسکا؟ میں لون لے کر ہر مہینہ جو 700روپئے ادا کررہا ہوں کیا وہ سود میں شمار ہوگا؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں تو بڑی مہربانی ہوگی۔
............................................................................
جواب:     اگرکوئی شخص شدید ضرورت میں مبتلا ہو،  اسے بلا سود قرض نہ مل رہا ہو تو ایسا شخص بصورت مجبوری سودی قرض حاصل کرے تو فقہاء کرام کی صراحت کے بموجب شرعاً کوئی مضائقہ نہیں، جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشادہے: فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَیْہِ۔ ترجمہ : تو جو شخص انتہائی مجبور ہو جا ئے، نہ نا فرمان ہو اور نہ حد سے تجاوز کرنے والا ہو تو اس پر (ممنوعہ چیز کے بقدر ضرورت استعمال میں )کوئی گناہ نہیں۔ (سورۃ البقرۃ۔173)
علامہ ابن نجیم نے البحرالرائق، کتاب البیع، باب الربا میں قنیہ کے حوالہ سے لکھا ہے: یجوز للمحتاج الاستقراض بالربح اھ۔.  
واللہ اعلم بالصواب
سید ضیاء الدین عفی عنہ
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدرابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com
حیدرآباد ، دکن ،انڈیا
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com