***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > وراثت کا بیان

Share |
سرخی : f 811    زوجہ ،پانچ بیٹوں اور دو بیٹیوں کے درمیان ترکہ کی تقسیم
مقام : انڈیا,
نام : اقبال
سوال:    

ہم لوگ پانچ بھائی اور دوبہنیں مع والدة ہیں ، والد محترم کا انتقال 2000ء میں ہوچکا ہے شرعی اعتبار انکے متروکہ مال کی تقسیم کس طرح سے کرنا چاہئے ؟تین سو گز زمین بھی ہے ۔ برائے مہربانی جواب جلد عنایت فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

جواب : شریعت مطہرہ میں میت کے ترکہ سے ترتیب وار چار حقوق متعلق ہوتے ہیں،(1)تجہیز وتکفین کا نظم(2)قرضہ جات کی منہائی ،بیوی کا مہر ادانہ کیا ہو تو اسکی ادائی (3)کسی غیر وارث کے حق میں کوئی وصیت کی ہو تو باقی مال کے ایک تہائی سے وصیت کی اجرائی۔(4)باقی ماندہ متروکہ کی ورثہ کے درمیان کتاب وسنت کے مطابق تقسیم۔ جیسا کہ السراجی فی علم الفرائض ص3/4میں ہے تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ الاول یبدأ بتکفینہ وتجہیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیرثم تقضی دیونہ من جمیع مابقی من مالہ ثم تنفذ وصایاہ من ثلث مابقی بعد الدین ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ۔ دریافت کردہ صورت میں حکمِ شریعت یہ ہے کہ سب سے پہلے مرحوم کے ترکہ سے اخراجاتِ تجہیز وتکفین وضع کئے جاکر جس نے خرچ کئے ہیں اس کو دئیے جائیں، بعد ازاں مرحوم کی بیوی کا زرِ مہر واجب الادا ہو تو اس کو ادا کیا جائے ونیز مرحوم کے ذمہ اگر قرضہ جات تھے تو انہیں اداکردیاجائے اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے لئے کوئی وصیت کی تھی تو ما بقی مالِ متروکہ کے ایک تہائی سے وصیت پوری کی جائے ،اس کے بعداگر میت کے اتنے ہی ورثہ ہوں تو مابقی متروکۂ بشمول زمین کے جملہ چھیانوے (96) حصے کئے جائیں ،زوجہ کو بارہ ﴿12﴾پانچ لڑکوں کو ، چودہ،چودہ،اور دو لڑکیوں کو سات سات حصے دئے جائیں۔ واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدرابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com