***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 812    خون عطیہ دینے کا شرعی حکم
مقام : یو ایس,
نام : ڈاکٹر ندیم
سوال:    

مریض کو خون کی ضرورت ہو تو کیا اسے کوئی شخص اپنا خون دے سکتا ہے؟ میں نے سنا کہ خون انسان کے جسم کا حصہ ہے اسے کسی اور کو دینا صحیح نہیں ،یہ بات کہاں تک درست ہے؟ ایک شخص سخت ترین حالات سے دوچار اور موت وحیات کے درمیان ہے، ڈاکٹرس نے کہا کہ اگر اسے خون نہ چڑھایا جائے تو پھر اس کے بارے میں کہا نہیں جاسکتا‘ ایسے وقت اسلام کیا رہنمائی کرتا ہے؟ براہ کرم جواب عنایت فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

خون انسانی جسم کا حصہ ہے لیکن اس کی حیثیت جسم کے اندرنی اور بیرونی اعضاء سے اس طور پر جداگانہ ہے کہ یہ جسم میں پیدا ہوتا رہتا ہے، خون کی کچھ مقدار کسی کے لئے عطیہ دینے سے وہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا‘ خون کو دودھ پر قیاس کیا جاسکتا ہے، دودھ ماں کے جسم کا جز ہے،تاہم بچہ کی شیرخواری کی عمر میں اس کا معدہ چونکہ کوئی اور غذا ہضم کرنے کا متحمل نہیں ہوتا لہذا بربنائے ضرورت اس کے لئے ماں کا دودھ جائز و مشروع رکھا گیا ہے۔ یقیناً انسان اپنے جسم کا مالک نہیں ،یہ دراصل اس کے پاس اللہ تعالی کی دی ہوئی امانت ہے، خون بھی انسان کے جسم کا ایک جز ہے، جسم انسانی کے کسی جز کا استعمال اس کی عزت وتکریم کے مغائر اور اس کی اہانت وتحقیر کے مترادف ہے‘ تاہم علاج کے لئے مندرجۂ ذیل ضرورت اور حاجت کی صورتوں میں خون دینے کی اجازت ہے بشرطیکہ اس کی وجہ سے خون دینے والے کے لئے کوئی خطرہ درپیش نہ ہو: (1) ماہر مسلم ڈاکٹر نے کہا ہو کہ اگر مریض کو خون نہ دیا جائے تو اس کی جان جاسکتی ہے۔ (2) ماہر مسلمان ڈاکٹر کے بموجب صحتیاب ہونے کے لئے خون دینے کے علاوہ کوئی صورت نہ ہو۔ اس کے برعکس اگر خون دینے کے سوا کوئی اور طریقۂ علاج ممکن ہو تو ایسی صورت میں خون دینا شرعاً درست نہیں۔ فتاوی عالمگیری‘ ج1‘ کتاب الکراہیۃ‘ الباب الثامن عشر فی التداوی والمعالجات ص355میں ہے: یجوز للعلیل شرب الدم والبول وأکل المیتۃ للتداوی إذا أخبرہ طبیب مسلم أن شفاء ہ فیہ ولم یجد من المباح ما یقوم مقامہ ۔ ۔ ۔ ولا بأس بأن یسعط الرجل بلبن المرأۃ ویشربہ للدواء۔ واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدرابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com