***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 816    گرگٹ مارنے کا ثواب
مقام : چنائی ، انڈیا,
نام : طاہر شریف
سوال:    

گرگٹ کو مارنے کا کوئی مسنون طریقہ ہے یا نہیں اور ہے تو کیسے؟کیااسکو مارنے سے ثواب ملتاہے ؟


............................................................................
جواب:    

گرگٹ کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے : من قتل وزغاکفر اللہ عنہ سبع خطیئات. ترجمہ : جس نے گرگٹ کو قتل کیا اللہ تعالی اس کے سات گناہ معاف فرمائے گا. (کنزالعمال ، کتاب القصاص ، الفصل الثانی فی الاحسان فی القتل ، الفرع الثالث فی قتل المؤذیات ، حدیث نمبر 400116) احادیث شریفہ سے یہ بات ثابت ہے کہ گرگٹ کو دویا تین ضرب میں مارنے کے بالمقابل ایک ہی ضرب میں مارڈالنا زیادہ باعث ثواب ہے ‘چنانچہ کنزالعمال میں حدیث پاک ہے: من قتل وزغا فی اول ضربۃ کتبت لہ مائۃ حسنۃ ۔ ترجمہ: جس نے ایک ضرب میں گرگٹ کو مارڈ الا اُس کے لئے سونیکیاں لکھی جاتی ہیں، جس نے اُسے دوسری ضرب میں مارڈالا اس کے لئے پہلے سے کم نیکیا ں ہیں اور جس نے اُسے تیسری ضرب میں مارڈالااُس کے لئے دوسری سے کم نیکیاں ہیں ۔ (کنز العمال ،حرف القاف ،کتاب القصاص ، الفصل الرابع فی وعید قاتل النفس والحیوانات والطیور ، الفرع الثالث فی قتل المؤذیات ، حدیث نمبر: 40042) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا گرگٹ مارنے کے لئے ایک نیزہ رکھا کرتی تھیں جیسا کہ سنن ابن ماجہ میں حدیث پاک ہے : عَنْ سَائِبَۃَ مَوْلاَۃِ الْفَاکِہِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ أَنَّہَا دَخَلَتْ عَلَی عَائِشَۃَ فَرَأَتْ فِی بَیْتِہَا رُمْحًا مَوْضُوعًا فَقَالَتْ یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ مَا تَصْنَعِینَ بِہَذَا قَالَتْ نَقْتُلُ بِہِ ہَذِہِ الأَوْزَاغَ فَإِنَّ نَبِیَّ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم أَخْبَرَنَا أَنَّ إِبْرَاہِیمَ لَمَّا أُلْقِیَ فِی النَّارِ لَمْ تَکُنْ فِی الأَرْضِ دَابَّۃٌ إِلاَّ أَطْفَأَتِ النَّارَ غَیْرَ الْوَزَغِ فَإِنَّہَا کَانَتْ تَنْفُخُ عَلَیْہِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم بِقَتْلِہِ. ترجمہ: حضرت فاکہ بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کی کنیز سائبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو آپ کے کاشانہ میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھ کر عرض کیں : اے ام المؤمنین!آپ اس نیزہ سے کیا کرتی ہیں ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم اس کے ذریعہ یہ گرگٹ مارتے ہیں کیونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیان فرمایا کہ حضرت ابراہیم علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کو جب آگ میں ڈالا گیا تو گرگٹ کے سوا زمین کا ہر جانور آگ بجھا نے لگا اور گرگٹ اس آگ کو مزید پھونکنے لگا، اسی وجہ سے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے مارٹالنے کا حکم فرمایا۔ (سنن ابن ماجہ ، ابواب الصید ، باب قتل الوزغ ، حدیث نمبر؛3353) واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدرابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا 07-12-2010

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com