***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان

Share |
سرخی : f 82    مزدلفہ پہنچنے سے پہلے عشاء کا وقت فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو
مقام : ،ہمایونگر،حیدرآباد،انڈیا,
نام : شمیم انور
سوال:     دنیا کے کئ ایک ممالک سے مسلمان حج بیت اللہ شریف کے لئے جاتے ہیں اور ہر سال حجاج کرام کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے ، حرمین شریفین میں حج کے موقع پر حجاج کرام کی آمد ورفت کے لئے خصوصی انتظامات ہوتے ہیں، چونکہ ازدحام بہت زیادہ ہوتا ہے اس لئے خصوصی انتظامات کے باوجود تمام حاجی حضرات نمازعشاء کے وقت تک عرفات سے مزدلفہ نہیں پہنچ سکتے، بسااوقات یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ڈرائیورس خوب گھماکر حجاج کرام کو مزدلفہ سے کافی دور چھوڑدئے ،اس کے بعد حجاج چلتے رہے چلتے رہے یہاں تک کہ بہت زیادہ تاخیر ہوگئی ،دریافت طلب امر یہ ہیکہ جو حاجی حضرات ایسی مجبوری کی وجہ سے مزدلفہ نہ پہنچ سکیں اور مزدلفہ پہنچ نے میں عشاء کا وقت فوت ہو جانے کا اندیشہ ہو تو انہیں نماز کے سلسلہ میں کیا کرنا چاہئے ؟
............................................................................
جواب:     نویں ذی الحجہ کو وقوف عرفہ کے بعد نمازمغرب کا وقت حجاج کے حق میں سورج غروب ہونے کے بعد شروع نہیں ہوتا بلکہ عشاء کا وقت مزدلفہ میں داخل ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے، چنانچہ حکم شریعت یہ ھیکہ حجاج کرام مزدلفہ پہنچ کر عشاء کا وقت شروع ہونے کے بعد مغرب وعشاء ایک اذان، ایک اقامت کے ساتہ اداکی نیت سے پڑھیں ، تاہم ازدحام یا دیگر کسی عذر کی بناء اگر یہ اندیشہ ہو کہ  مزدلفہ پہنچنے تک عشاء کا وقت فوت ہوجائیگااور صبح صادق نمودار ہوجائیگی تو راستہ ميں یا جہاں کہيں ہوں مغرب وعشاء اداکرلیں، فقہاء کرام نے صراحت کی ھیکہ جب مغرب وعشاء کو جمع کرنے کا وقت فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو نماز اصل وقت میں اداکرلینا ضروری ہے- جیساکہ مناسک ملاعلی قاری مع حاشیہ ارشاد الساری باب احکام المزدلفۃ، ص 238 ميں ہے:


  (ولايصلي)ای احداھما (خارج المزدلفة)ای مطلقا (الااذاخاف طلوع الفجرفيصلی) ای فيه کمافی نسخه (حيث ھو) ای لضرورة ادراک وقت اصل الصلوۃ وفوت وقت الواجب للجميع ولو کان فی الطريق او بعرفات او منی ونحوها -


اگر عشاء کا وقت ختم ہو نے سے پہلے مزدلفہ پہنچ جائیں تو انہيں مغرب وعشاء دہرانا ضروری ہے- فتاوی عالمگیری ، ج1 ، كِتَابُ الْمَنَاسِكِ، الْبَابُ الْخَامِسُ فِي كَيْفِيَّةِ أَدَاءِ الْحَجِّ، ص230 پر ہے:

  وَلَوْ صَلَّى الْمَغْرِبَ بَعْدَ غُرُوبِ الشَّمْسِ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ الْمُزْدَلِفَةَ فَعَلَيْهِ أَنْ يُعِيدَهَا إذَا أَتَى بِمُزْدَلِفَةَ فِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى وَكَذَلِكَ لَوْ صَلَّى الْعِشَاءَ فِي الطَّرِيقِ بَعْدَ دُخُولِ وَقْتِهَا -


بہر طورانہيں جلد ازجلد وقوف واجب کے لئے مزدلفہ پہنچنا ضروری ہے، وقوف  مزدلفہ صبح صادق سے طلوع آفتاب سے پہلے تک ایک لمحہ کے لئے ہی کیوں نہ ہو پہنچنا واجب ہے جس کے چھوٹنے پر دم دینا لازم ہے-
جو حاجی حضرات وقوف عرفہ کے بعد ٹریفک کی مجبوری کی وجہ یا راہ بٹھکنے کے باعث طلوع آفتاب سے پہلے تک مزدلفہ نہ پہنچ سکیں ان پر ترک واجب کے سبب دم دینا لازم ہے،  فتاوی عالمگیری ج1 ،كِتَابُ الْمَنَاسِكِ، الْبَابُ الْخَامِسُ فِي كَيْفِيَّةِ أَدَاءِ الْحَجِّ ، ص230 پر ہے:

ثُمَّ وَقْتُ الْوُقُوفِ فِيهَا مِنْ حِينِ طُلُوعِ الْفَجْرِ إلَى أَنْ يُسْفِرَ جِدًّا فَإِذَا طَلَعَتْ الشَّمْسُ خَرَجَ وَقْتُهُ وَلَوْ وَقَفَ فِيهَا فِي هَذَا الْوَقْتِ أَوْ مَرَّ بِهَا جَازَ-


  فتاوی عالمگیری ،ج1 ،كِتَابُ الْمَنَاسِكِ، الْفَصْلُ الْخَامِسُ فِي الطَّوَافِ وَالسَّعْيِ وَالرَّمَلِ وَرَمْيِ الْجِمَارِ، ص247، میں ہے:

وَمَنْ تَرَكَ الْوُقُوفَ بِمُزْدَلِفَةَ فَعَلَيْهِ دَمٌ كَذَا فِي الْهِدَايَةِ-


اور فتاوی عالمگیری ج1، كِتَابُ الْمَنَاسِكِ، الْبَابُ الْخَامِسُ فِي كَيْفِيَّةِ أَدَاءِ الْحَجِّ، ص231، میں ہے:۔۔۔

۔ وَلَوْ جَاوَزَ حَدَّ الْمُزْدَلِفَةِ قَبْلَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَعَلَيْهِ دَمٌ لِتَرْكِ الْوُقُوفِ بِهَا إلَّا إذَا كَانَتْ بِهِ عِلَّةٌ أَوْ مَرَضٌ أَوْ ضَعْفٌ فَخَافَ الزِّحَامَ فَدَفَعَ مِنْهَا لَيْلًا فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ-


  ردالمحتارج 2 ص194میں ہے:

  وَلَوْ فَاتَهُ الْوُقُوفُ بِمُزْدَلِفَة بِإِحْصَارٍ فَعَلَيْهِ دَمٌ مِنْ أَنَّ هَذَا عُذْرٌ مِنْ جَانِبِ الْمَخْلُوقِ فَلَا يُؤَثِّرُ. ا هـ .


واللہ اعلم بالصواب   -
  سید ضیاء الدین عفی عنہ ،
  نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ    وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com