***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان

Share |
سرخی : f 83    12 ذی الحجہ تک سعی نہ کی جاسکے تو کیا حکم ہے ؟
مقام : بنجارہ ہلز روڈ نمبر12حیدرآباد،انڈیا,
نام : عبدالکریم
سوال:     حج میں طواف زیارت کے بعد جو سعی کی جاتی ہے اگر کوئی حاجی صاحب  12ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک نہ کریں تو کیا انہیں اس مدت میں سعی نہ کرنے کی وجہ سے کفارہ دینا یا دم دینا ضروری ہے؟
............................................................................
جواب:     : سعی کے درست ہونے کے شرائط میں ایک شرط یہ ہےکہ طواف کے بعد سعی کی جائے ونیزطواف مکمل کرکے دوگانۂ طواف سے فارغ ہونے کے فوراً  بعد سعی کرنا سنت ہے جیسا کہ صحیح بخاری شریف ج ۱’کتاب المناسک‘ باب ماجاء فی السعی بین الصفاوالمروۃ،ص232 ،میں ہے : عن ابن جریج قال اخبرنی عمر وبن دینارقال سمعت ابن عمر قال قدم النبی صلی اللہ علیہ وسلم مکۃ فطاف بالبیت ثم صلی رکعتین ثم سعی بین الصفاوالمروۃ ثم تلا: لقدکان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ۔ /font> >
ترجمہ: ابن جریج رضی اللہ عنہ ،عمر وبن دینا ر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں ،انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں رونق افروز ہوئے توآپ نے بیت اللہ شریف کا طواف کیا پھر دوگانۂ طواف ادا فرمایا اس کے بعد صفا ومروہ کے درمیان سعی فرمائی۔   ابن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ بیان کرنے کے بعد آیت کریمہ تلاوت فرمائی: لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ،/font> >  
ترجمہ :یقینا اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک زندگی میں تمہارے لئے ایک بہترین نمونہ ہے۔(سورۃالاحزاب۔21)
اس حدیث شریف کی روشنی میں طواف اور واجب الطواف کے بعد متصل طور پر سعی کرنا سنت قرار دیا گیا ہے ،اگرطواف کے بعد تازہ دم ہونے کی غرض سے یا کسی اورعذر کی وجہ سے وقفہ لے کر سعی کی جائے تو شرعاً کوئی مضائقہ نہیں ،اگر بلا کسی عذر کے غیر معمولی تاخیرکی جائے تو یہ عمل مکروہ اور بُرا ہے ، تاہم تاخیر کرنے والے کے ذمہ کفارہ یا دم لازم نہیں ۔
جیسا کہ ردالمحتار ،ج ۲،کتاب الحج، مطلب فی طواف القدوم ص 185، میں ہے :   وصرح فی المحیط بان تقدیم الطواف شرط لصحۃ السعی وبہ علم ان تاخیر السعی واجب والی انہ لایجب بعد ہ فوراً والسنۃ الاتصال بہ۔بحر۔ فان اخرہ لعذر اولیستریح من تعبہ فلاباس والا فقد اساء ولا شئ علیہ۔/font> >
مناسک ملاعلی قاری مع حاشیۂ ارشاد الساری، فصل فی مکروھاتہ ص199،میں ہے :   (وتاخیرہ ) ای وتاخیرالسعی (عن وقتہ ) ای عن زمانہ المختار تاخیرا کثیرا من غیرعذر۔/font> >
اگرکوئی صاحب طواف کرنے کے بعد12 ، ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک کسی عذرکے سبب سعی نہ کرسکیں تو انہیں اس کے بعد سعی کر لینی چاہئیے اوراگربلا عذر12، ذی الحجہ کے غروب آفتاب تک سعی نہ کئے ہوں تب بھی انہیں سعی کرنی ضروری ہے، بہر دو صورت ان کے ذمہ کوئی کفارہ یا دم ضروری نہیں البتہ بلا عذر تاخیر کرنا مکروہ ہے - واللہ اعلم بالصواب –
  سید ضیاء الدین ،
  نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ   وبانی ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com