***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > زیارت قبور و ایصال ثواب

Share |
سرخی : f 831    زیارت قبور کا شرعی حکم  
مقام : حیدرآباد ،انڈیا,
نام : محمدعبدالنعیم
سوال:    

شریعت مطہرہ میں زیارت قبور کی کیا حیثیت ہے ؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔


............................................................................
جواب:    

زیارت قبور بالاتفاق مستحب ہے اس سے دل میں رقت پیدا ہوتی اور موت کی یاد آتی ہے اور حدیث شریف میں آتا ہے :اکثروا ذکر ھاذم اللذات یعنی الموت۔ (جامع ترمذی،ابواب الزہد،باب ما جاء فی ذکر الموت،حدیث نمبر:2229 ۔سنن نسائی،کتاب الجنائز،حدیث نمبر:1801) ترجمہ: (لذتیں کاٹنے والی موت کو کثرت سے یاد کرو ) زیارت قبور سے اس پر عمل آوری ہوتی ہے اور زیارت قبور، اموات کے لیے دعا و استغفار کرنے کا سبب بنتی ہے۔ شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام نے امت مسلمہ کو زیارت قبور کا حکم فرمایا جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں وارد ہے عن ابن بریدۃ عن ابیہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیتکم عن زیارۃ القبور فزوروھا۔ ترجمہ:حضرت ابن بریدۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا میں نے تمہیں زیارت قبور سے منع کیاتھا تو ان کی زیارت کیاکرو۔ (صحیح مسلم،کتاب الجنائز،باب استئذان النبی صلی اللہ علیہ وسلم ربہ ج1، حدیث نمبر؛ 2305۔ سنن ابوداؤد،کتاب الجنائز،باب فی زیارۃ القبور، حدیث نمبر: 2816،3212۔ سنن نسائی،کتاب الجنائز،باب فی زیارۃ القبور،ج ص حدیث نمبر:2005۔558۔5559 ۔ مستدرک علی الصحیحین، کتاب الجنائز،حدیث نمبر:1334۔ مصنف عبدالرزاق ،ج3ص569،حدیث نمبر: 6708۔ مسند امام احمد ،مسند المکثرین من الصحابۃ، حدیث نمبر:4092،21880،21925،21939،21974 ۔ سنن صغری للبیہقی ،کتاب الجنائز، باب فی زیارۃ القبور، حدیث نمبر: 1177 ۔ سنن کبری للنسائی،ج 1ص 654حدیث نمبر:2159،4518،5162۔ سنن کبری للیہقی،کتاب الجنائز، حدیث نمبر: 7444،7460۔ مصنف ابن ابی شیبۃ،ج3 ص223 ، حدیث نمبر: 145۔المطالب العالیۃ،کتاب الجنائز، حدیث نمبر: 922۔ معجم اوسط طبرانی،باب من اسمہ ابراہیم،حدیث نمبر: 2812،3083،6583۔ معجم اوسط طبرانی،باب المیم من اسمہ محمد،حدیث نمبر: 880۔ معجم کبیر طبرانی،حدیث نمبر:1403، 11487۔ بیہقی شعب الایمان ،حدیث نمبر:8981۔ صحیح ابن حبان، کتاب الاشربۃ، ج12، ص213، حدیث نمبر: 5390، 5391،5400۔ مجمع الزوائد،ج3ص58۔کنزالعمال ،کتاب الحج والعمرۃ،الفصل الثامن،حدیث نمبر:12264)۔ زیارت قبور کا حکم اپنے اطلاق کے ساتھ زماں و مکاں کی قید کے بغیر مرد و عورت دونوں کو شامل ہے اور منع کا پہلا حکم لفظ زورواسے منسوخ ہے۔ چنانچہ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں پس زیارت بکنید الان و اٰن حکم اول را منسوخ رانید ۔پس زیارت کرو اور یہ حکم اول کو منسوخ کردیا۔ (اشعۃ اللمعات ج1 ص 764) عن ابن مسعود ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال کنت نھیتکم عن زیارۃ القبور فزوروھا فانھا تزھد فی الدنیا و تذکر الاخرۃ۔ (جامع ترمذی ، کتاب الجنائز،باب ماجاء فی الرخصۃفی زیارۃ القبور،ج 1ص حدیث نمبر: 974۔ابن ماجہ ج1 ص112) حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں زیارت قبور سے منع کیا تھا پس زیارت کرو کیونکہ وہ دنیامیں پرہیزگار بناتی اور آخرت کی یاد دلاتی ہے۔ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال زار النبی صلی اللہ علیہ وسلم قبرامہ ۔ ۔ ۔ فزوروا القبور فانھا تذکرکم الموت۔ (مسلم شریف ج 1ص314،باب ماجاء فی جواززیارۃ القبورسنن ابن ماجہ شریف ،ج1ص112) حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،سیدنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ محترمہ کے مزار اقدس کی زیارت فرمائی ۔ ۔ ۔ ارشاد فرمایا : پس قبور کی زیارت کرو کیونکہ وہ موت کی یاد دلاتی ہے۔ عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انی نھیتکم عن زیارۃ القبور فزوروھا فأن فیھا عبرۃ۔ (احمد ) (الترغیب والترھیب ج4ص357) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں زیارت قبور سے منع کیا تھا پس زیارت کرو کیونکہ اس میں عبرت و نصیحت ہے۔ مذکورہ احادیث شریفہ میں زیارت قبور کے چار فوائد بیان کئے گئے ہیں (1) موت یاد دلانا (2) آخرت کی یاد آنا (3) عبرت حاصل ہونا (4) متقی و پرہیزگار بنانا۔ عامۃ الناس کی قبور ہوں یا اولیاء اللہ کے مزارات کی زیارت، فرمان نبوی علی صاحبہ الصلوۃ والسلام کے مطابق ان سے یہ چاروں فوائد حاصل ہوتے ہیں،مگر صالحین اور بزرگان دین کے مزارات کی زیارت سے انسان تقویٰ و طہارت اورپرہیزگاری اختیار کرتا ہے،کیونکہ مزارات اولیاء سے فیوض و برکات جاری ہوتے رہتے ہیں اسی لیے فقہاء کرام نے اولیاء اللہ کے مزارات پر حصول برکت کے لیے حاضری دینے کی صراحت فرمائی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب سید ضیاء الدین عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com حیدرآباد ، دکن ،انڈیا

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com