***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > مضاربت کا بیان

Share |
سرخی : f 843    پارٹنرشپ (partnership) میں نفع ونقصان کی تقسیم کیسے ہو؟
مقام : ممبئی،انڈیا,
نام : محمد افسر
سوال:    

میری تجارت میں ایک دوست کے ساتھ پارٹنرشپ ہے، میں اس سلسلہ میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ایک حصہ دار تجارت میںسرمایہ لگاتاہے اور دوسرا کام کرتا ہے تو اِن دونوں کے درمیان حصہ داری میں نفع کا تناسب کیا ہوگا؟ برائے مہربانی مجھے جواب عنایت فرمائیں‘ میں آپ کا بہت ہی شکر گزار رہوں گا۔


............................................................................
جواب:    

کوئی دوافراد ایسا معاملہ طے کریں کہ ایک شخص کا سرمایہ ہوگا اور دوسرے شخص کی محنت ہوگی تو اسے اصطلاح شریعت میں ’’مضاربت‘‘ کہاجاتاہے۔ مضاربت درست ہونے کے لئے شریعت اسلامیہ میں چند شرائط مقرر کی گئی ہیں، منجملہ ان کے ایک شرط یہ ہیکہ سرمایہ کار (Investor) اور محنت کرنے والا (working partner) دونوں نفع میں شریک ہوں، جو بھی فائدہ ہو دونوں اپنی صوابدید اور آپسی رضامندی سے آدھا آدھا یا کم و بیش ایک دوسرے کے درمیان تقسیم کرلیں۔ اس کے برخلاف دونوں میں سے کسی ایک کے لئے نفع کی رقم متعین کرنا شرعاً جائز نہیں کیونکہ یہ پارٹنرشپ (partnership) کے اسلامی اصول کے خلاف ہے۔ ہدایہ ج3ص258 میں ہے: ومن شرطھا ان یکون الربح بینھما مشاعالا یستحق احدھما دراھم مسماۃ من الربح لان شرط ذلک یقطع الشرکۃ ولا بدمنھا کما فی عقدالشرکۃ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com