***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > شرکت کا بیان

Share |
سرخی : f 846    دو افراد کا سرمایہ اور ایک کی محنت ہو تو نفع کا تناسب کیا ہو؟
مقام : آسٹریلیا,
نام : محمدحامد
سوال:     دوآدمی حصہ داری میں پیسہ لگاکر تجارت کرنا چاہتے ہیں، ایک شخص کے پاس پیسہ زیادہ ہے اور دوسرے کے پاس کم ہے یعنی دونوں کا سرمایہ 1/2 یا1/3 کی نسبت سے ہے، اور جو شخص پیسہ کم لگایا ہے وہ محنت بھی کررہا ہے دوسرا حصہ دار کام نہیں کرتا وہ صرف سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتا ہے تو اِن دونوں کے درمیان حصہ داری میں نفع ونقصان کا تناسب کیا ہوگا؟
............................................................................
جواب:     دوافراد اگر شراکت داری کے ساتھ معاملہ کریں، لیکن دونوں کا سرمایہ مساوی نہ ہو تو سرمایہ کاری کی اس صورت کو اصطلاح شرع میں ’’شرکت عنان‘‘ کہا جائیگا، اس مسئلہ میں نفع کی تقسیم سے متعلق مندرجۂ ذیل دوصورتیں درست ہیں:  
(1)اگر دونوں اپنے سرمایہ کے تناسب 1/2 یا1/3 کے مطابق نفع کا تناسب مقرر کرلیں تو جائز ہے، یعنی ایک شخص کا ایک حصہ اور دوسرے کے دوحصے یا ایک شخص کا ایک حصہ اور دوسرے کے تین حصے۔
(2) جوشخص اپنا سرمایہ مشغول کیا اور محنت بھی کرتا ہے اس کے لئے زیادہ فائدہ مقرر کریں تب بھی جائز ہے، یعنی جس شخص نے ایک حصہ سرمایہ لگایا اور محنت کرتا ہے اور دوسرادوحصے یا تین حصے سرمایہ لگایا لیکن محنت نہیں کرتا تو ایک حصہ سرمایہ لگاکر محنت کرنے والے کے لئےاُسکے سرمایہ  سے زیادہ فائدہ مقرر کرنا شرعاً درست ہے۔
اس کے برخلاف محض سرمایہ لگانے والے کے لئے جو محنت نہیں کرتا اس کے سرمایہ کے تناسب سے زیادہ فائدہ کا تناسب طے کیا جائے تو شرعاً درست نہیں ۔  
اگر تجارت میں نقصان ہوتو ذکرکردہ وضاحت کے بموجب سرمایہ کے تناسب کے اعتبار سے نقصان کا تناسب ہر ایک کے حصہ میں آئے گا۔  
رد المحتار ج 5ص 374میں ہے : اذا تفاضلا فی الربح فان شرطا العمل علیھما سویۃ جاز ولو تبرع احدھما بالعمل وکنا لو شرطا العمل علی احدھما وکان الربح للعامل بقدر راس مالہ او اکثر ولوکان الاکثر لغیرالعامل او لاقلھما عملا لایصح ولہ ربح مالہ فقط وھذا اذا کان العمل مشروطا۔
اور رد المحتار ج 5ص 374میں ہے : والوضعیۃ بینھما علی قدر راس مالھما ابدا۔
واللہ اعلم بالصواب ۔
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com