***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان

Share |
سرخی : f 85    رمی کے وقت کنکریوں میں اضافہ یا کمی ہوجائے تو کیا حکم ہے ؟
مقام : شاہ علی بنڈہ حیدرآباد ،انڈیا,
نام : اظہرعلی
سوال:     منی میں جمرات کو کنکریاں مارنے کے دوران کبھی تعداد میں فرق آجاتا ہے ، اگر کوئی شخص سات کنکریوں سے کم یا زیادہ کنکریاں ماردے تو اسے کیا کرنا چاہئیے ؟
............................................................................
جواب:     رمی جمار حج کے واجبات سے ہے ، جن جمرات کی رمی کی جاتی ہے ان میں سے ہر ایک کی رمی کے وقت سات کا عدد پورا کرنا رمی کا رکن ہے ، تاہم چار یا اس سے زیادہ کنکریاں مارنے سے بھی یہ رکن ادا ہو جاتا ہے ،تین یا اس سے کم کنکریاں ماری جائیں تو رمی کا رکن ادا نہیں ہوتا ،اسی لئے اگر کسی حاجی صاحب نے تین یا اس سے کم کنکریاں ماری ہوں تو ان پر دم واجب ہوگا جس طرح مطلقاً رمی نہ کرنے والے پر واجب ہوتاہے ، اگر وہ دوبارہ سات کنکریاں مار لیں تودم واجب نہ ہوگا ،اس طرح چار یا اس سے زائد کنکریاں ماری جائیں تورمی کا رکن ادا ہوجائے گا اور دم واجب نہ ہوگا ، تاہم جتنی کنکریاں کم ہونگی ہر ایک کے بدلہ صدقہ واجب ہوگا ۔
صدقہ کی مقدار گیہوں دینے کی صورت میں آدھا صاع یعنی سوا کلو اور جو یا کھجور دینا چاہیں تو ایک صاع یعنی ڈھائی کلو ہے ،ایک صاع 2،کلو 212،گرام کے برابر ہوتا ہے اور آدھا صاع ایک کلو 104،گرام کے معادل ہوتاہے ،بطور احتیاط آدھے صاع کےلئے سوا کلو اور ایک صاع کےلئے ڈھائی کلو صدقہ کرنا چاہئیے۔ شمالی ہند کے علماء کے پاس آدھا صاع ایک کلو 590،گرام اور ایک صاع تین کلو،180،گرام ہوتا ہے۔
اگر کسی شخص کو اس امر میں شک ہو کہ اس نے چھ  کنکریاں ماری ہیں یا سات ، اور شک دور کرنے کےلئے اس نے ایک اور کنکری ماری جبکہ وہ سات کنکریاں مارچکا تھا تو کوئی حرج نہیں بالارادہ سات سے زائد کنکریاں مارنا مکروہ تنزیہی ہے۔
جیسا کہ مناسک ملاعلی قاری مع حاشیۂ ارشاد الساری ، فصل فی احکام الرمی وشرائطہ وواجباتہ، ص275،میں ہے :   (التاسع اتمام العدد اواتیان اکثرہ) وفیہ ان ھذا رکن الرمی لاشرطہ (فلونقص الاقل منھا) ای من السبعۃ بان رمی اربعۃ وترک ثلاثۃ اواقل (لزمہ جزاؤہ ) ای کماسیاتی (مع الصحۃ ) ای مع صحۃ رمیہ لحصول رکنہ (ولوترک الاکثر) ای بان رمی ثلاثۃ او اقل (فکانہ لم یرم)ای حیث انہ یجب علیہ دم کما لو ترک الکل  
نیزاس کے ص 277، میں ہے : (ولورمی اکثرمن سبعۃ یکرہ) ای اذا رماہ عن قصد واما اذا شک فی السابع ورماہ وتبین انہ ثامن فانہ لایضرہ ھذا ۔
صدقہ کے متعلق ص 436، میں ہے :   (…فالمراد نصف صاع من بر اوصاع من غیرہ) کالتمروالشعیر۔

واللہ اعلم بالصواب
سید ضیاء الدین عفی عنہ
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
وبانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر www.ziaislamic.com
حیدرآباد ، دکن ،انڈیا  
2010-11-07
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com