***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 851    ریپبلک ڈے کے فنکشن میں شرکت کرنا
مقام : حیدرآباد ،انڈیا,
نام : سید مجیب علی
سوال:    

26جنوری کو ملک بھر میں ریپبلک ڈے (Republic day) بڑے زور وشور سے منایا جاتا ہے دہلی کے علاوہ ملک کی تمام ریاستوں میں اسکولس‘ کالجس‘ اور مختلف اداروں میں کرو فر سے اسکا اہتمام ہوتا ہے، ریپبلک ڈے (Republic day)کے اس موقع پر مختلف کلچرل پروگرامس کئے جاتے ہیں، جن میں روایتی سنگیت اور ناچ بھی پیش کیا جاتا ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ ریپبلک ڈے کے موقع پر پیش کئے جانے والے ان کلچرل پروگرامس میں شریک ہونا شرعاً کیسا ہے؟در اصل میرا لڑکا جس اسکول میں زیر تعلیم ہے وہاں کے مینجمنٹ کی جانب سے تمام اسٹوڈنس کے سرپرستوں کے نام دعوت نامہ بھیجا گیا ہے اس طرح میں بھی ریپبلک ڈے کے فنکشن میں مدعو ہوں، مجھے اس فنکشن میں شریک ہونا چاہئیے یا نہیں؟ حکمِ شرعی سے آگاہ فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

26جنوری 1950ء کو دستور ہند پورے ملک کیلئے نافذ العمل قرار پایا اور ہندوستان میں باضابطہ جمہوریت قائم ہوئی ، اہل ہند کیلئے یہ دن ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے لہذا یوم جمہوریہ(Republic day) کے موقع پر قومی یکجہتی وملکی اتحاد کی غرض سے ایسے تعلیمی پروگرامس جو گانے بجانے رقص وسرود اور دیگر منکرات شرعیہ سے پاک ہوں پیش کئے جائیں اور اس میں شرکت کی جائے تو منع نہیں البتہ رقص وسرود اور گانے بجانے پر مشتمل فنکشن (Function) کرنا اور اس طرح کے فنکشن اٹینڈ کرنا شریعت اسلامیہ کی رُو سے ممنوع وناجائز ہے۔ گانے بجانے کی حرمت سے متعلق امام بیہقی کی شعب الایمان ، میں حدیث پاک منقول ہے: عن جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ ﷺ الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء الزرع۔ ترجمہ:سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے حضرت رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: گانا بجانا دل میں نفاق کو اُگاتا ہے جس طرح پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔ (شعب الایمان للبیہقی‘ حدیث نمبر4888) گانے بجانے والے کے کندھوں پر شیاطین رقص کرتے ہیں جیسا کہ تفسیرات احمدیہ ص 400میں حدیث پاک ہے: وقال النبیﷺ ما من رجل یرفع صوتہ بالغناء الا بعث اللہ علیہ شیطانین احدہما علی ہذا المنکب والاخر علی ہذا المنکب ولا یزالان یضربان بارجلہما حتی یکون ہو الذی یسکت۔ ترجمہ:حضرت نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جو کوئی شخص گانے کے ذریعہ اپنی آواز بلند کرے اللہ تعالی اس پر دو شیطانوں کو مسلط فرمادیتا ہے، ان میں سے ایک اس کاندھے پر اور دوسرا اس کاندھے پر ہوتا ہے اور دونوں مسلسل ناچتے رہتے ہیں یہاں تک کہ یہ شخص ہی خاموش ہوجائے۔ در مختار، ج2، کتاب الحظر والإباحۃ، ص245 میں ہے: ان الملاہی کلہا حرام۔ احادیث مذکورہ اور فقہی صراحت سے گانے بجانے کی حرمت معلوم ہوتی ہے ،بنا بریں ناچ گانے، رقص وسرود والے پروگرام میں شریک ہونا شرعاً حرام وناجائز ہے، ہاں ایسے پروگرامس جن میں تعلیمی مظاہرے پیش کئے جائیں تو اس میں شرکت کی جاسکتی ہے۔ شرعاً کوئی مضائقہ نہیں، بلکہ سرپرست حضرات واولیاء طلبہ تعلیمی مظاہرے کے وقت موجود ہوں تو طلبہ کی خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہونے کے ساتھ ساتھ انکی مزید ہمت افزائی ہوتی ہے۔ آپ کے فرزند کے اسکول میں جہاں یوم جمہوریہ ہند (Republic day) کے موقع پر جو فنکشن ہونے والا ہے اگر اس میں ناچ گانے رقص وسرود ، بے پردگی وبے حیائی منکرات شرعیہ سے متعلق کوئی پروگرام نہ ہو تو آپ شریک ہوسکتے ہیں اسمیں کوئی مضائقہ نہیں ، اگر اس میں روایتی سنگیت وفلمی گیت، گانا بجانا اور مخرب اخلاق منکرات شرعیہ شامل ہوں تو شرکت کرنا شرعی اعتبار سے بھی جائز نہیں اور اخلاقی اعتبار سے بھی درست نہیں۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاء الدین نقشبندی عفی عنہ شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی ابوالحسنات اسلامک ریسرچ سنٹرwww.ziaislamic.com حیدرآباد،دکن 2011-01-23

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com