***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > غسل کے مسائل

Share |
سرخی : f 859    غسل کے موقع پر چوکڑا نکالنے کا حکم
مقام : حیدرآباد ۔انڈیا,
نام : محمد ماجدعلی
سوال:    

ہمارے خاندان کے بڑے حضرات نے یہ سوال کیا ہے کہ دانت نہ ہوں تو جوچوکڑا لگایا جاتا ہے غسل کے وقت اسے کیا کرنا چاہئے؟ مفتی صاحب! اس کے بارے میں آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ چوکڑا استعمال کرنے والوں کوغسل کرتے وقت، کیاچوکڑا نکالنا ضروری ہے ؟شرعی حکم سے آگاہی بخشی جائے ۔


............................................................................
جواب:    

غسل میں کلی کرنا فرض ہے ، اس لئے تمام مسوڑھوں تک پانی پہنچانا ضروری ہے، جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج1 ص6 میں ہے: وحد المضمضۃ استیعاب الماء جمیع الفم۔ چوکڑا جسم کا مستقل عضو نہیں ، اسے ضرورت کے تحت لگایا جاتا ہے لہذا غسل میں چوکڑے کے نیچے مسوڑھے کے حصہ تک پانی پہنچانا فرض ہے ، اگر چوکڑا نکالے بغیر پانی مسوڑھوں کے پورے حصہ تک پہنچ جاتا ہے تو نکالنے کی ضرورت نہیں اور اگر چوکڑا نکالے بغیر پانی مسوڑھوں تک نہیں پہنچتا تو پھر غسل کے وقت چوکڑا نکالنا ضروری ہوگا۔ قرینِ احتیاط یہ ہے کہ غسل کے وقت بہر طورچوکڑا نکالا جائے تاکہ پانی مسوڑھوں تک پوری طرح پہنچ جائے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com