***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > نفقہ کے مسائل

Share |
سرخی : f 861    والد پر بالغ لڑکوں کے نفقہ کاوجوب
مقام : ہبلی،انڈیا,
نام : ناظم الدین شکیل
سوال:    

بچہ بالغ ہو اور کماتاہوتو اس کاخرچ وہ خود دیکھتاہے ، اگر کوئی لڑکا بالغ ہوچکاہے لیکن بیمار ہے ، طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے وہ کمانے کی طاقت نہیں رکھتا، یابیمارنہیں لیکن معذورہے کمانے کی صلاحیت نہیں رکھتا، تو کیا اس کا خرچ والد پر رہے گا؟ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ لڑکے نہ بیمار ہوتے ہیں اور نہ معذور ہوتے ہیں ، لیکن ابھی وہ صحیح طریقہ سے کام کرکے اپنی ذمہ داری اپنا خرچ خود اٹھا نہیں سکتے حالانکہ وہ بالغ ہیں تو ان بالغ لڑکوں کا خرچ کس کے ذمہ ہوگا؟


............................................................................
جواب:    

لڑکے کا نفقہ والد کے ذمہ اُس قت ہوگا جب تک کہ وہ نابالغ ہو، جب بالغ ہوجائے تو شریعت اسلامیہ اسے خود ذمہ دار قرار دیتی ہے‘ اب والد اس کے نفقہ کا ذمہ دار نہیں رہتا۔ بالغ لڑکا اگر بیمار یا معذور ہو‘ کسب معاش کی صلاحیت نہیں رکھتا تو ایسے لڑکے کا نفقہ شرعاً والد کے ذمہ ہوگا، اسی طرح وہ بالغ لڑکا جو کام کرنے کی صلاحیت رکھتاہے لیکن بحسن وخوبی کام انجام نہیں دے سکتا ‘اسکا نفقہ بھی ازروئے شریعت والد کے ذمہ ہوگا۔ فتاوی عالمگیری کتاب الطلاق ، الباب السابع عشر فی النفقات ، الفصل الرابع فی نفقۃ الاولاد میں ہے :ولا یجب علی الأب نفقۃ الذکور الکبار إلا أن الولد یکون عاجزا عن الکسب لزمانۃ ، أو مرض ومن یقدر علی العمل لکن لا یحسن العمل فہو بمنزلۃ العاجز کذا فی فتاوی قاضی خان ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com