***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان

Share |
سرخی : f 862    مغرب سے پہلے دورکعت کا حکم
مقام : انڈیا,
نام : محمد اسماعیل
سوال:     میں میڈ یکل کالج میں لکچرار ہوں ، مجھے امتحان کے سلسلہ میںڈیوٹی پر مدراس جانے کا موقع ملا ،وہاں میں نے ایک مسجد میں دیکھا کہ بعض لوگ مغرب کی اذان کے بعد فرض نماز سے پہلے دورکعت پڑھے اور بعد میں وہ جماعت میں شریک ہوگئے، حیدرآباد میں مغرب کی فرض پڑھنے کے بعد سنت اور نفل نماز پڑھتے ہیں ،مغرب کی فرض سے پہلے توکوئی نماز نہیں پڑھی جاتی، میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا مغرب کی فرض سے پہلے بھی کوئی نفل نماز ہے، جیسے مغرب کے بعد اوابین کی نماز پڑھی جاتی ہے؟ میںجواب کا منتظر ہوں ، امید ہیکہ آپ ضرور جواب عنایت فرمائیں گے ؟
............................................................................
جواب:     فقہ حنفی کی رو سے اذان مغرب کے بعد فرض نماز سے پہلے کوئی سنت یا نفل نماز نہیں ،ہر نماز کی اذان او راقامت کے درمیان نماز ہے لیکن مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان کوئی نماز اداکرنا نہیں ہے ،اذان کے معاًبعد فرض نماز کیلئے ٹہرنا مسنون ومستحب ہے ، زجاجۃ المصابیح ج1 ص 335 میں حدیث پاک ہے: عن حیان بن عبیداللہ بن بریدۃ عن ابیہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال بین کل اذانین صلوۃ الا المغرب۔ رواہ البزار واسنادہ حسن۔  
ترجمہ : حضرت حیان بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ  اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر اذان واقامت کے درمیان نماز ہے سوائے نماز مغرب کے ۔
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی اذان اور اقامت کے درمیان نماز ادا نہیں فرمائی جیسا کہ زجاجۃ المصابیح ج1 ص336 میں امام محمدرحمۃ اللہ علیہ کی کتاب الاثار کے حوالہ سے حدیث شریف منقول ہے: عن حماد قال سألت ابراہیم عن الصلوۃ قبل المغرب فنھانی عنھا وقال ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم وابابکر وعمر لم یصلوھا۔ رواہ محمد فی الاثار۔
ترجمہ : حضرت حماد سے روایت ہے انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے مغرب سے پہلے نماز کے متعلق دریافت کیا تو اُنہوں نے مجھے اس سے منع کیا او رفرمایا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر وحضرت عمر رضی اللہ عنھما نے یہ نماز نہیں پڑھی ۔
دیگر صحابہ کرام نے بھی مغرب سے پہلے کوئی نماز ادانہیں فرمائی جیسا کہ زجاجۃ المصابیح ج1 ص336 میں سنن ابوداؤد شریف کے حوالہ سے حدیث مبارک مذکور ہے: عن طاؤس قال سئل ا بن عمر عن الرکعتین قبل المغرب فقال مارأیت احدا علی عھد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یصلیھما ۔وساق الحدیث ۔ ۔ ۔ رواہ ابوداود۔  
ترجمہ : حضرت طاؤس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے مغرب سے پہلے دورکعت کے متعلق دریافت کیا گیا توانہوں نے فرمایا: میں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کسی کو یہ دورکعت ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
لہذا اذان مغرب کے بعد فرض ادا کرنے سے پہلے سنت یا نفل کے بطور دو رکعت پڑھنا مکروہ ہے۔ جیسا کہ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ص470میں ہے: ویکرہ التنفل بعد غروب الشمس قبل صلوۃ المغرب۔
واللہ اعلم بالصواب ۔
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
2011-02-19  
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com