***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > غسل کے مسائل

Share |
سرخی : f 871    کیاغسل کی نیت عربی میں پڑھنا ضروری ہے؟
مقام : گنتکل,
نام : آمد خان
سوال:     مفتی صاحب! میں گاؤں میں رہتا ہوں ، یہاں پر مجھ سے ایک صاحب نے کہا کہ بھائی مجھ کو غسل کی نیت پڑھنے نہیں آتا ، آپ غسل کی نیت پڑھ کر پانی میں پھونک دیں ، میرا سوال یہ ہیکہ کیا اس طرح غسل کی نیت عربی میں پڑھنا ضروری ہے ، اگر پڑھنے نہیں آتا تو کیا کسی اور سے دم کراسکتے ہیں ؟اگر نیت نہ کرسکے،کوئی اور پڑھنے والا موجود نہ ہو تو غسل ہوگا یا نہیں؟  
مجھے اس کا جواب ضرور دیجئے ، میں آپ کے جواب کا انتظار کررہا  ہوں ۔ شکریہ
............................................................................
جواب:     وضو اورغسل میں نیت کی حیثیت سنت کی ہے فرض یا شرط کی نہیں ۔ احناف کا یہی مسلک ہے ، نیت دراصل دل کے قصد و ارادہ کا نام ہے ۔
لہذا دل سے نیت کرلی جائے تو ادائی سنت کیلئے کافی ہے تاہم زبان سے نیت کے الفاظ کہنا مستحب ہے ۔ خواہ عربی زبان میں کہے یا کسی اور زبان میں،اگر کسی شخص کو عربی زبان میں نیت یاد نہ ہو تو دوسرے شخص کو دم کرنے کے لئے دینا ،غیر ضروری اور لایعنی عمل ہے۔
بنیادی بات یہ ہے کہ غسل کے فرائض کی تکمیل کی جائے،کلی کرنا،ناک میں پانی چڑھانا،تمام جسم پر پانی بہانا ،ان تین فرائض میں سے کوئی ایک فرض بھی چھوٹ جائے یا اس میں کوتاہی ہو تو غسل نہیں ہوگا۔ فتاوی عالمگیری ج 1وضو کی سنتوں کے بیان میں ص8 پر ہے: (ومنہا النیۃ) ۔ ۔ ۔  ومحلہا القلب والتلفظ بہا مستحب۔  
در مختار ج 1 ص511 میں ہے: (وسننہ) کسنن الوضوء رد المحتار کے اسی صفحہ پر ہے : ای من البدایۃ۔
واللہ اعلم بالصواب ۔
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com