***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > سجدۂ سہو کے مسائل

Share |
سرخی : f 872    سجدہ سہو کے بعد جماعت میں شریک ہو تو کیا سجدہ سہو کرے؟
مقام : بنجارہ ہلز,
نام : محمد اختر
سوال:    

میں بنجارہ ہلز میں رہتا ہوں اور آئی ٹی کمپنی میں کام کرتاہوں ، ہماری کمپنی میں بہت کم مسلمان رہتے ہیں ، اللہ کا شکر ہے کہ میں نماز پابندی کے ساتھ ادا کرتا ہوں ، لیکن کبھی کبھی جماعت چھوٹ جاتی ہے ، ایک مرتبہ جماعت سے نماز پڑھنے کے لئے مسجد کو گیا ، وہاں پر امام صاحب آخری رکعت کے قعدہ میں تھے ، میں جماعت میں شریک ہوگیا ، بعد میں معلوم ہوا کہ غلطی ہونے کی وجہ سے امام صاحب سجدہ سہو کئے تھے ، میں سجدہ سہو میں شریک نہ تھا ، اور اپنی نماز کو بھی بغیر سجدہ سہو کے ختم کرلیا۔ میں نے سنا تھا کہ مقتدی کے لئے امام کی اتباع کرنا ضروری ہے، کیا اس وقت میں مجھے سجدہ سہو کرنا تھا یا نہیں ، اگر تھا تو اب میں دوبارہ نماز کس طرح پڑھوں ؟ ۔


............................................................................
جواب:    

باجماعت نماز کے دوران اگر سہو کی وجہ امام صاحب نے سجدۂ سہو کیا ، سجدۂ سہو کے بعد قعدہ میں کوئی شخص جماعت میں شامل ہو جائے تو اس پر سجدۂ سہو واجب نہیں ،آپ نے جو سنا کہ" مقتدی کے لئے امام کی اتباع کرنا ضروری ہے" یہ درست بات ہے،تاہم جو شخص امام صاحب کے سجدۂ سہو کرنے کے بعد شریک جماعت ہو اس کے لئے حکم یہی ہے کہ وہ اپنی نماز کے اختتام پر سجدۂ سہو نہ کرے ،کیونکہ اب وہ امام کی اتباع میں نماز نہیں ادا کررہا ہے،جیساکہ فتاوی عالمگیری ، کتاب الصلاۃ ، الباب الثانی عشر فی سجود السہو میں ہے:ولو دخل معہ بعدما سجد سجدۃ السہو یتابعہ فی الثانیۃ ولا یقتضی الأول وإن دخل معہ بعدما سجدہما لا یقضیہما ، کذا فی التبیین ۔ واللہ اعلم بالصواب۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com