***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > وضو کے مسائل

Share |
سرخی : f 873    آشوب چشم کی وجہ نکلنے والا پانی ناقض وضو ہے
مقام : تھائی لینڈ,
نام : عتیق احمد
سوال:    

میں تھائی لینڈ میں مقیم ہوں ، یہاں میرے ایک دوست ہیں ، ان کی آنکھیں لال ہوگئی ہیں ، آنکھوں سے پانی نکل رہا ہے لیکن اُنہیں تکلیف نہیں ہے،میں ان کے پاس ملاقات کے لئے گیا،اتفاق سے اسی وقت عیادت کے لئے ایک پڑوسی آئے ، اُن کی آنکھ سے پانی نکل رہاتھا، گفتگو میں یہ بات چھڑ گئی کہ آنکھوں سے نکلنے والے اس پانی سے وضو ٹوٹے گا یانہیں ؟ بہت طویل گفتگو ہوئی لیکن ہم کچھ نتیجہ پر نہیں پہنچے ، اُس وقت سے یہ بات میرے ذہن میں کھٹک رہی ہے ، مفتی صاحب میں یہ جاننا چاہتاہوں کہ اس صورت میں آنکھوں سے پانی نکلنے کی وجہ سے وضو ٹوٹتاہے یا نہیں ٹوٹتا؟ بیان فرمادیں تو آپ کا شکر گزار رہوں گا۔


............................................................................
جواب:    

آنکھ سے نکلنے والے پانی سے متعلق فقہاء کرام نے کہا ہے کہ اگر بیماری کی وجہ آنکھ سے پانی نکلتاہے تو اس سے وضو ٹوٹ جاتاہے خواہ آنکھ میں تکلیف ہویانہ ہو ۔ اگر آنکھ میں کوئی تکلیف یا بیماری نہ ہو اور پانی نکلے تو وضو نہیں ٹوٹتا ۔ جیساکہ درمختار ، کتاب الطھارۃ میں نواقض وضو کے بیان کے تحت مذکور ہے : فدمع من بعینہ رمد أو عمش ناقض۔ نیز رد المحتار ، کتاب الطھارۃ میں ہے : وقولہم : العین والأذن لعلۃ دلیل علی أن من رمدت عینہ فسال منہا ماء بسبب الرمد ینتقض وضوء ہ وہذہ مسألۃ الناس عنہا غافلون اہ۔ . وظاہرہ أن المدار علی الخروج لعلۃ وإن لم یکن معہ وجع ، تأمل . واللہ اعلم بالصواب۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com