***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان

Share |
سرخی : f 879    بوقت نیت الفاظ کی تبدیلی
مقام : مانصاحب ٹینک حیدرآباد،انڈیا,
نام : حمیرا فاطمہ
سوال:    

جب نماز کیلئے کھڑے ہوکر نیت کرتے ہیں تو بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ دل میں ایک نماز کی نیت ہوتی ہے اور زبان سے کچھ اور الفاظ نکل جاتے ہیں، اس وقت کونسی نماز ہوگی؟ جبکہ زبان سے جو الفاظ نکلے ہم اس کی نیت کرنا نہیں چاہتے تھے ، کہنے میں غلطی ہوئی۔ براہِ کرم ضرور جواب دیجئے ؟


............................................................................
جواب:    

نیت کا مقام دل ہے زبان نہیں ، زبان سے محض نیت کا تلفظ ہوتا ہے تاکہ دل اور زبان میں موافقت ہوجائے اور مزید یکسوئی و دلجمعی حاصل ہو ، اس لئے اگر زبان، دل کے ارادہ و نیت کے ادا کرنے میں چوک جائے اور دل سے ایک نماز کی نیت کی ہو اور زبان سے اس کے برعکس لفظ نکل جائے تو ایسی صورت میں شریعت مطہرہ نے دل کی نیت کا اعتبار کیا ہے ، زبان کے الفاظ کا نہیں کیونکہ نیت کے باب میں دل کا عمل معتبر ہے۔ جیسا کہ در مختار ج1 ص 503 میں ہے: والمعتبر فیہا عمل القلب اللازم للإرادۃ) فلا عبرۃ للذکر باللسان إن خالف القلب۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com