***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > حلال و حرام کا بیان

Share |
سرخی : f 89                  قبرستان کی زمین پر کمرشیل کامپلکس
مقام : ممبئ,
نام : محمد علیم الدین
سوال:     ایک صاحب قبرستان کے لئے زمین وقف کئے ہیں اس قبرستان میں تدفین جاری ہے،بعض لوگ قبرستان کی روڈ سے متصل 500،گز زمین فروخت کرنے کے لئے کہ رہے ہیں وہ اس مقام پر کامپلکس تعمیرکرنا چاہتے ہیں،ایسی صورت میں وقف کرنے والے صاحب کو کیا کرنا چاہئے؟
............................................................................
جواب:     جس چیز کو وقف کر دیا جائے وہ شرعا وقف کرنے والے کی ملکیت باقی نہيں رہتی،واقف(وقف کرنے والا) موقوفہ چیز کا نہ خود مالک رہتا ہے اور نہ کسی دوسرے کو مالک بنا سکتا ہے اس لئے اس وقف کردہ چیز کو فروخت کرنا، ہبہ کرنا، عاریۃ دینا اور رہن رکھنا جائز نہیں، اسی طرح وہ ترکہ میں بھی شامل نہیں ہوگی اور ورثاء اس کے مالک نہیں ہوں گے جیساکہ درمختار ج3،کتاب الوقف،ص392،میں ہے:
فلا يجوز له إبطاله ولا يورث عنه، وعليه الفتوى.

ترجمہ:وقف کرنے والے کے لئے وقف کو باطل کرنا جائز نہیں اور وقف وراثت میں نہیں آتا، اسی پر فتوی ہے-
نیز تنویر الابصار مع در مختار ج3،ص402،میں ہے:
فإذا تم ولزم لا يملك ولا يعار ولا يرهن-

ترجمہ:جب وقف (تمام شرائط کے مطابق) پورا ہوجائے تو موقوفہ چیز نہ کسی کی ملکیت رہتی ہے نہ اس کو کسی کی ملکیت میں دیا جاسکتا ہےاور نہ عاریۃً دیا جاسکتا ہے اور نہ رہن پر-
جب زمین کے مالک نے اس کو قبرستان کے لئے وقف کر دیا ہے تو وہ حصۂ زمین واقف کی ملکیت مین نہ رہی لھذا قبرستان کی وقف شدہ زمین کا وہ حصہ جو سڑک سے متصل ہے اس کو کامپلکس کے لئے یا کسی اور غرض سے فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں-
          
     واللہ اعلم بالصواب-          
                                                                            مفتی سید ضیاء الدین
                                                                                                       نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
        
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com