***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > طہارت کا بیان > غسل کے مسائل

Share |
سرخی : f 897    غسل میں ناک کے اندرونی حصہ تک پانی پہنچانا!
مقام : بنگلہ دیش,
نام : محمد امجد
سوال:    

گزشتہ میں نے غسل کے بارے میں آپ کا جواب پڑھا اور اس سے میرے معلومات میں بہت اضافہ ہوا، میں نے ناک میں پانی چڑھانے میں مبالغہ کا ذکر بھی دیکھا ہے ، ا سکے بارے میں میرا ایک سوال ہے : بعض اوقات ناک میں میل ہوتا ہے جو سوکھ کر جم جاتا ہے کیا ایسی صورت میں غسل ہوگا ؟


............................................................................
جواب:    

غسل کے تین فرائض میں ایک مبالغہ کے ساتھ ناک میں پانی چڑھانا ہے ، ناک میں اس طرح پانی چڑھانا چاہئے کہ ناک کے نرم حصہ تک پوری طرح پہنچ جائے ۔ اگر ناک کی رطوبت جم کر سوکھ جائے تو اس کے نیچے کی سطح تک پانی پہنچانا شرعاً لازمی ہے ، غسل میں ناک کے اندر موجود میل اگر خشک ہی رہ جائے، اس کے نیچے کی سطح تک پانی نہ پہنچے توغسل درست نہ ہوگا۔ فتاوی عالمگیر ی ، کتاب الطہارۃ الباب الثانی فی الغسل ، الفصل الاول فی فرائض الغسل میں ہے: والدرن الیابس فی الانف یمنع تمام الغسل۔ واللہ اعلم بالصواب ۔ سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com