***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > حج وعمره کا بیان

Share |
سرخی : f 92    مغرب وعشاء ،ایک ساتھ ادا ئیگی
مقام : کشن باغ،حیدرآباد،انڈیا,
نام : محمد فاروق
سوال:     حجاج سورج ڈوبنے کے بعد مزدلفہ جاتے ہیں اور وہاں نماز مغرب پڑھتے ہیں جبکہ مزدلفہ پہنچنے تک مغرب کا وقت نکل چکا ہوتا ہے کیا وقت گذرنے کے بعد مغرب کی نماز ادا کرنے سے نماز صحیح ہوجاتی ہے ؟
............................................................................
جواب:     حجاج کرام نویں تاریخ کو میدان عرفات میں غروب آفتاب تک وقوف کرکے غروب کے بعد نماز مغرب ادا کئے بغیر عرفات سے مزدلفہ جاتے ہیں، اس دن انہیں نماز مغرب غروب آفتاب کے ساتھ نہیں پڑھنا چاہئیے ، چنانچہ صحیح مسلم شریف ج 1،ص416، میں حدیث پاک ہے : عن کریب مولی ابن عباس قال سمعت اسامۃ بن زید یقول افاض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من عرفات فلما انتھی الی الشعب نزل فبال ولم یقل اسامۃ اراق الماء قال فدعا بماء فتوضا وضوء لیس بالبالغ قال فقلت یا رسول اللہ ! الصلوۃ ؟ قال الصلوۃ امامک قال ثم سار حتی بلغ جمعا فصلی المغرب والعشاء ۔ /font> >
ترجمہ : حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما کے غلام حضرت کریب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا : میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنھما کو فرماتے ہوئے سنا : حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے واپس ہوئے جب آپ ایک گھاٹی پر پہنچے تو سواری سے اترکرحاجت سے فارغ ہوئے ،حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے اس روایت میں ’’اراق الماء ‘‘ کے الفاظ ذکر نہیں فرمائے ، حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :پھر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا  کر خفیف وضوء فرمایا ،میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز کا وقت ہوچکاہے ، آپ نے فرمایا : نماز کا مقام تمہارے آگے ہے ، پھر آپ چلتے رہے یہاں تک کہ مزدلفہ پہنچے اورمغرب وعشاء ایک ساتھ ادا فرمائی ۔
واللہ اعلم بالصواب –
  سید ضیاء الدین ،
  نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ –
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com