***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > قراءت کے مسائل

Share |
سرخی : f 923    کیامقتدی امام کوفرض نمازمیں لقمہ دے سکتاہے؟
مقام : کریم نگر اے پی انڈیا,
نام : عابد علی
سوال:    

مقتدی اپنے امام کو فر ض نماز میں لقمہ دے سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر مقتدی لقمہ دے اور امام نہ لے تو اس صورت میں مقتدی یا امام کی نماز فاسد ہوگی یا نہیں؟


............................................................................
جواب:    

مقتدی اپنے امام کو بوقت ضرورت فرض ونفل ہرقسم کی جہری نماز میں لقمہ دے سکتا ہے ‘تاہم لقمہ دینے میں جلدی کرنامکروہ ہے اور مقتدی کے اپنے امام کولقمہ دینے کی وجہ سے مقتدی اور امام کسی کی بھی نماز فاسد نہیں ہوتی ،البتہ مقتدی کو چاہئیے کہ لقمہ دینے میں جلدی نہ کرے ، ممکن ہے کہ امام کو اسی وقت بھولا ہوا لفظ یاد آجائے تب مقتدی امام کے پیچھے بے ضرورت قراء ت کرنے والاقرارپائیگا،لہذا امام کو لقمہ دینے میں عجلت کرنا مکروہ ہے ۔ فتاوی عالمگیری ج1،کتاب الصلوۃ الباب السابع فی مایفسد الصلوۃومایکرہ فیہاص 99 میں ہے : وإن فتح علی إمامہ لم تفسد ثم قیل : ینوی الفاتح بالفتح علی إمامہ التلاوۃ والصحیح أن ینوی الفتح علی إمامہ دون القراء ۃ قالوا ہذا إذا أرتج علیہ قبل أن یقرأ قدر ما تجوز بہ الصلاۃ أو بعدما قرأ ولم یتحول إلی آیۃ أخری وأما إذا قرأ أو تحول ففتح علیہ تفسد صلاۃ الفاتح والصحیح أنہا لا تفسد صلاۃ الفاتح بکل حال ولا صلاۃ الإمام لو أخذ منہ علی الصحیح .ہکذا فی الکافی . ویکرہ للمقتدی أن یفتح علی إمامہ من ساعتہ لجواز أن یتذکر من ساعتہ فیصیر قارئا خلف الإمام من غیر حاجۃ .کذا فی محیط السرخسی۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com