***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > اذان کے مسائل

Share |
سرخی : f 925    اذان کے بعد مسجد سے نکلنے کا حکم
مقام : تیگل کنٹہ،انڈیا,
نام : شفیع الدین
سوال:    

ہمارے پاس لوگوں کے درمیان اذان ہونے کے بعد مسجد سے نکلنے کے متعلق گفتگوہوئی، بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ اذان ہونے کے بعد مسجد سے نکلنے میں کوئی حرج نہیں،میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ وہ کونسی صو رتیں ہیں جن میں اذان کے بعد مسجد سے نکلنا جائزہے اور وہ کونسی صو رتیں ہیں جن میں اذان کے بعد مسجد سے نکلنا جائزنہیں ہے،صحیح مسئلہ سے آگاہ فرمائیں ؟


............................................................................
جواب:    

جس مسجد میں اذان ہوچکی ہو‘اس مسجد سے اگر کوئی شخص نکلتا ہے تودرج ذیل صورتوں میں اسکی گنجائش ہے :(1) اذان کے بعد مسجد سے نکلنے والا کسی دوسری مسجدکا امام یاموذن ہے (2)وہ محلہ کی مسجد کا موذن یا امام نہیں ہے لیکن اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جارہا ہے جبکہ وہاں نماز نہ ہوئی ہو(3) اپنے استاد کی مسجد میں نمازاداکرنے اورشریک درس ہونے یا وعظ سننے کے لئے جارہاہے(4) یاکسی اورضرورت کی وجہ سے جارہا ہے بشرطیکہ واپس آکرباجماعت نماز اداکرنے کاارادہ رکھتاہو تو ان تمام صورتوں میں اذان کے بعد مسجد سے نکلنا درست ہے۔ اوراگر ظہریا عشاء کی اذان کے بعد نکلنا چاہے جبکہ وہ اس نمازکو پڑھ چکا ہو تو مسجد سے نکل سکتا ہے البتہ اقامت شروع ہوچکی تو اذان کے بعد مسجد سے نہ نکلے بلکہ نفل کی نیت سے جماعت میں شریک ہوجائے کیونکہ ایسی صورت میں مسجد سے نکلنا مکروہ ہے۔ اگر فجر، عصراور مغرب کاوقت ہواوروہ مذکورہ نماز پڑھ چکا تو اقامت ہویا نہ ہو‘ مسجد سے نکلنا بغیر کراہت کے جائز ہے ‘ان تینوں نمازوں کی جماعت میں نفل کی نیت سے بھی شامل نہیں ہوسکتا‘کیونکہ فجر عصر کے بعد تو نفل مکروہ ہے اور مغرب کے بعد نفل تومکروہ نہیں لیکن تین رکعات کی کوئی نفل نہیں ہوتی۔ اگراس نے نماز نہ پڑھی کہ اذان ہوجائے او رمسجد سے نکلنے کامذکورہ بالا اعذار میں سے کوئی عذر نہیں ہے تو کسی بھی نماز کا وقت ہو‘اسکو چاہئے کہ مسجد میں ٹھرارہے اور جماعت میں شریک ہوجائے، کیو نکہ ایسی صورت میں بغیر نماز پڑھے مسجدسے نکلنامکروہ تحریمی ہے ۔ درمختار،کتاب الصلٰوۃ، باب ادراک الفرضیۃ، ص 529۔528 میں ہے:(وکرہ) تحریما للنہی (خروج من لم یصل من مسجد أذن فیہ) جری علی الغالب، والمراد دخول الوقت أذن فیہ أو لاا( الالمن ینتظم بہ امر جماعۃ اخری) أو کان الخروج لمسجد حیہ ولم یصلوا فیہ، أو لاستاذہ لدرسہ، أو لسماع الوعظ، أو لحاجۃ ومن عزمہ أن یعود. نہر (و) إلا (لمن صلی الظہر والعشاء ) وحدہ (مرۃ) فلا یکرہ خروجہ بل ترکہ للجماعۃ (إلا عند) الشروع فی (الاقامۃ) فیکرہ لمخالفتہ الجماعۃ بلا عذر، بل یقتدی متنفلا لما مر (و) إلا (لمن صلی الفجر والعصر والمغرب مرۃ) فیخرج مطلقا (وان اقیمت)۔ سنن ابن ماجہ شریف ابواب الاذان ،باب إذا أذن وأنت فی المسجد فلا تخرج.(حدیث نمبر:783)میں حدیث مبارک ہے: عن عثمان قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من أدرکہ الأذان فی المسجد ثم خرج لم یخرج لحاجۃ وہو لا یرید الرجعۃ فہو منافق . ترجمہ:حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :جو شخص مسجد میں اذان کو سنے پھر وہ مسجد سے نکلے اور اسکا نکلنا کسی حاجت سے نہ ہو پھر واپس آنے کا ارادہ بھی نہ ہو تو وہ منافق ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com