***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان

Share |
سرخی : f 927    بیوی سے دو سال جدا رہنے کے بعد کیا نکاح باقی رہے گا؟
مقام : ممبئی,
نام : محمد وارث
سوال:    

عرض خدمت میرا سوال یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کتنے دن تک الگ رہ سکتے ہیں‘ نہ ان دونوں میں طلاق ہوئی نہ خلع مگر جدائی کا سبب اور پھر ملن کی صورت ایک شرط پر ہے اور وہ یہ ہے کہ میری بیوی کے بھائی میرے بہنوئی ہوتے ہیں اور میں ان کے بہن کا شوہر ہوں‘ دوہرے رشتے ہیں‘ لگ بھگ دو سال پرانی بات ہے میرے بھائی جان دوسری شادی کرلئے اور گھر بار بسالئے‘ نہ اتہ پتہ تھا نہ نان و نفقہ تھا‘ معلوم کرنے پر حقیقت سامنے آئی‘ ہمارا کہنا تھا کہ دوسری بیوی کو چھوڑ دو ورنہ تم خود تمہاری بہن کو اس کے شوہر سے محروم کررہے ہو‘ دو سال گزر تو گئے‘ نہ انہوں نے دوسری بیوی کو چھوڑا ‘ نہ اُن کی بہن شوہر سے مل سکی۔ معلوم کرنا یہ ہے کہ لگ بھگ دو سال اتنا طویل عرصہ کی جدائی نکاح کو باقی رکھتی ہے یا نہیں؟ سنا ہے کہ چار ماہ سے زیادہ الگ رہنے سے طلاق بائن ہوجاتی ہے‘ اس مسئلہ کا جواب مرحمت فرمائیں ‘ میں اس کا انتظار کررہا ہوں۔


............................................................................
جواب:    

آپ نے جو سنا ہے کہ زوجین چار ماہ سے زیادہ الگ رہنے سے طلاق بائن ہوتی ہے‘ بالکل غلط ہے جب تک شوہرطلاق نہ دے محض بیوی سے دوری اختیارکرنے کی وجہ طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ اگر آپ کے بہنوئی نے دوسری شادی کرلی ہے اور آپ کی بہن کے حقوق ادا نہیں کررہے ہوں‘ تووہ شرعاً ظلم کرنے والے قرار پاتے ہیں جسکا بہت ہی سنگین وبال ہے ۔ شریعت مطہرہ میں دوسری شادی کرنے والے پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دونوں بیویوں کے درمیان عدل وانصاف کرے، حق زوجیت میں تک مساوات و برابری کالحاظ رکھے ،اگرایک بیوی کے پاس ایک رات گزارتاہوتو دوسری بیوی کے پاس بھی ایک رات ہی گزارے ،ایک بیوی کے پاس دویا تین رات گزارتاہوتو دوسری کے پاس بھی اسی کے بقدر رہے ،جو شخص بیویوں کے درمیان عدل قائم نہ رکھے قیامت کے دن اسکا ایک بازوگرا ہوا رہے گا ۔جیساکہ سنن ترمذی شریف میں حدیث پاک ہے :عن أبی ہریرۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال إذا کان عند الرجل امرأتان فلم یعدل بینہما جاء یوم القیامۃ وشقہ ساقط. ترجمہ :سیدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب آدمی کے پا س دوبیویاں ہوں اور وہ ان کے درمیان انصاف نہ کرے تو قیامت کے دن اس حالت میں آئے گا کہ اسکا ایک بازو گراہواہوگا۔ ( سنن ترمذی شریف، کتاب النکاح ،باب ماجاء فی تسویۃ بین الضرائر،حدیث نمبر :1171 ) لہذا شوہرکوچاہئے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے دونوں بیویوں کے حقوق اداکرے اور حقوق کی ادائیگی میں برابری کو پیش نظررکھے۔ آپ اپنے بہنوئی کو عمدگی کے ساتھ سمجھائیں‘ خاندان کے ذی اثر افراد کے ساتھ نشست کروائیں۔ آپ نے دو سال سے اپنی بیوی (آپ کے بہنوئی کی بہن) سے جو علیحدگی اختیار کرلی ہے‘ یہ عمل درست نہیں۔ اسی طرح آپ نے اپنے بہنوئی کے لئے جو شرط رکھی ہے کہ آپ دوسری بیوی کو چھوڑ دیں ورنہ آپ کی بہن اپنے شوہر سے محروم ہوجائے گی‘ یہ اسلامی طریقہ نہیں۔ آپ اپنی بہن کے حقوق کا مطالبہ کررہے ہیں‘ حقوق حاصل نہ ہونے کی صورت میں اپنی بیوی کواس کی غلطی کے بغیر حقوق سے محروم کرنے کی دھمکی دیتے ہیں ،بھائی کی غلطی کا بدلہ اور اس کے ظلم کا انتقام اس کی بہن سے لینا بجائے خود ظلم ہے۔ اپنے طریقہ کار کو بدلیں‘ اپنی بیوی کے ساتھ حسن سلوک کریں اور حقوق اداکریں اورجائزطریقہ سے بہنوئی کو سمجھائیں۔واللہ اعلم بالصواب فتاوی عالمگیری میں ہے: ومما یجب علی الأزواج للنساء العدل والتسویۃ بینہن فیما یملکہ والبیتوتۃ عندہا للصحبۃ والمؤانسۃ لا فیما لا یملک وہو الحب والجماع کذا فی فتاوی قاضی خان . (فتاوی عالمگیری‘ کتاب النکاح‘ الباب الحادی عشر فی القسم ) فتح القدیر‘ کتاب النکاح‘ باب القسم میں ہے: فاستفد نا ان حل الاربع مقید بعدم خوف عدم العدل و ثبوت المنع عن اکثر من واحدۃ عند خوفہ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com