***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاملات > خرید و فروخت کا بیان

Share |
سرخی : f 932    بیعانہ کا حکم
مقام : چیرلہ پلی،انڈیا,
نام : محمد حاجی قریشی
سوال:     عموماً فلیٹس اور پلاٹس کی خریدو فروخت کے وقت خریدار سے کچھ رقم اڈوانس لی جاتی ہے ۔ گویا خریدار اڈوانس رقم دے کر بیچنے والے کو یہ یقین دلاتا ہے کہ میں یہ پلاٹ لے چکا ہوں ۔ مابقی رقم اتنے دن میں ادا کروں گا ۔ فروخت کرنے والا اور خریدار دونوں کی رضامندی سے یہ طے پاتا ہے کہ خریدار اگر متعینہ مدت میں رقم ادا نہ کرسکے اور معاملہ ختم کرنا چاہے تو اڈوانس دی گئی رقم واپس نہیں کی جائے گی ۔ کیااڈوانس دی گئی رقم لینا فروخت کرنے والے کے لئے شرعاً درست ہے ؟ حکم شریعت بیان فرمائیں ۔
............................................................................
جواب:     خریدار اور تاجر دونوں کی باہمی رضامندی سے معاملہ طئے ہونے کے بعد تاجرکو اطمینان دلانے کے لئے ،،بیعانہ ،، کی جو رقم اڈوانس دی جاتی ہے وہ دراصل فروخت کی جانے والی چیز کی قیمت کا ایک حصہ ہے ۔  
خریدار طے شدہ مدت میں کسی وجہ سے باقی ماندہ رقم ادا کرنے سے عاجز آئے اور معاملہ ختم کرنا چاہے تو اس صورت میں،، بیعانہ ،، کی رقم واپس نہ کرنا اور سوخت کرنا شرعاً جائز نہیں ۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے چنانچہ سنن ابن ماجہ شریف ص 158(حدیث نمبر:2276)میں حدیث پاک ہے :عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن  جدہ ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن بیع العربان ۔
ترجمہ : حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ،، بیع عربان ،، سے منع فرمایا ۔ بدایۃ المجتھد ج 2ص 163 میں ہے : بیع عربان یہ ہے کہ ایک شخص کوئی چیز خریدے اور فروخت کرنیو الے کو اس کی کچھ قیمت اس شرط پر دے کہ اگر خریدوفروخت نافذ و مکمل ہوجائے تو دی گئی رقم سامان کی قیمت میں شمار کی جائے گی اور بیع نافغ نہ ہوسکے تو خریدار یہ رقم فروخت کرنے والے کے لئے چھوڑدے گا اور اس سے اس رقم کا مطالبہ نہیں کرے گا۔
جمھور فقہائے کرام نے اس بیع کو ممنوع و ناجائز قرار دیا ۔ اس لئے کہ یہ دھوکہ اور زائد شرط ہے ۔ اس صورت میں بلا عوض دوسرے کے مال کا مالک بننا لازم آتا ہے ۔
بنا بریں یہ بیع باطل ہے ۔ اس طرح کی خریدوفروخت درست نہیں ۔
نصوص شرعیہ سے واضح ہوتا ہے کہ خریدار معاملہ ختم کرنے کی صورت میں فروخت کرنے والا بیعانہ کی رقم کا مالک نہیں ہوتا کیونکہ خریدار نے اس رقم کے عوض کوئی چیز نہیں لی ۔ لہذا پلاٹس ، فلیٹس اور دیگر اشیاء فروخت کرنے والے کے لئے معاملہ نافذ نہ ہونے کی صورت میں بیعانہ کی رقم سوخت کرنا شرعاً ناجائز و ممنوع ہے ۔  
بدایۃ المجتھد ج 2ص 162 میں ہے : و من ھذا الباب بیع العربان فجمھور علماء الامصار علی انہ غیرجائز۔
بدایۃ المجتھد ج 2ص 163 میں ہے :وصورتہ ان یشتری الرجل شیئاً فیدفع الی المبتاع من ثمن ذلک المبیع شیئاً علی انہ ان نفذ البیع بینھما کان ذلک المدفوع من ثمن السلعۃ و ان لم ینفذ ترک المشتری بذلک الجزء من الثمن عند البائع ولم یطالبہ بہ و انما صارالجمھور الی منعہ لانہ من باب الغرروالمخاطرۃ و اکل المال بغیر عوض ۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com