***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > اخلاق کا بیان > متفرقات

Share |
سرخی : f 962    فضائل میں ضعیف روایت قابل اعتبار
مقام : ہانگ کانگ,
نام : محمد اختر
سوال:    

شب براء ت کی فضیلت سے متعلق جو روایت ہے اس کے بارے میں کہا جاتاہے کہ وہ روایت ضعیف ہے ، اسی وجہ سے اس روایت کا کوئی اعتبار نہیں ، کیا یہ بات درست ہے ، اگر شب براء ت کی فضیلت کی روایت ضعیف ہے تو پھر شب براء ت کی فضیلت کس طرح صحیح مانی جاسکتی ہے ؟ آپ کے جواب کا منتظر ۔


............................................................................
جواب:    

علامہ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے مجمع الزوائد میں امام طبرانی کی معجم کبیرومعجم اوسط سے شب براء ت کی فضیلت والی روایت نقل کرنے کے بعد راویوں کی توثیق وتعدیل کرتے ہوئے لکھا : ورجالھما ثقات ۔ ترجمہ : اور ان دونوں احادیث کے راوی معتبر وثقہ ہیں ۔ (مجمع الزوائد ، کتاب الادب ، باب ماجاء فی الھجران ) اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ شب براء ت کی فضیلت والی روایت ضعیف ہے جیساکہ سوال میں ذکر کیا گیاہے تب بھی اُسے ناقابل عمل نہیں کہا جاسکتا‘اس لئے کہ اس حدیث شریف سے شب براء ت کی فضیلت ثابت ہوتی ہے جبکہ ناقدین حدیث وائمۂ جرح وتعدیل کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ضعیف حدیث فضائل کے باب میں مقبول ‘قابل عمل اور لائق استدلال ہے ۔ شارح بخاری ‘صاحب فتح الباری حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (وصال ۸۵۲ ؁ ھ)نے المطالب العالیہ میں ایک مستقل باب ہی یہ باندھا ہے ’’باب العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال یعنی فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنے کا بیان ‘‘اس باب کے تحت مندرجہ ذیل حدیث پاک نقل کی ہے : عن انس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من بلغہ عن اللہ تعالی فضیلۃ فلم یصدق بھا لم ینلھا ۔ ترجمہ : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اُنہوں نے فرمایا ‘حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو اللہ تعالی کی جانب سے کوئی فضیلت کی بات پہنچے اور اس نے اس کی تصدیق نہیں کی تو وہ اُس فضیلت سے محروم رہے گا۔ (المطالب العالیۃ‘ کتاب العلم‘ حدیث نمبر: 3133) فضائل میں حدیث ضعیف پر عمل کرنے سے متعلق امام ابوزکریا محی الدین یحی بن شرف نووی رحمۃ اللہ علیہ (۶۷۶ ؁ ھ)نے اپنی تصانیف میں متعدد مقامات پر واضح اور دوٹوک انداز میں تصریح فرمائی : وقد اتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال ۔ ترجمہ: علماء امت نے فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کرنے کو بالاتفاق جائز کہا ہے ۔ (شرح الاربعین النوویۃ ، مقدمہ ۔ المجموع شرح المھذب ) علامہ علی بن سلطان محمد قاری رحمۃ اللہ علیہ (۱۰۱۴ ؁ ھ)نے مرقاۃ المفاتیح میں اس طرح لکھا ہے : وقد اتفق الحفاظ علی جواز العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال اھ ۔ ترجمہ :تمام حفاظ حدیث اس بات پر متفق ہیںکہ فضائل اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل کرنا‘جائزہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب العلم ، الفصل الثالث ) حدیث ضعیف اگر متعدد اسناد اور کئی ایک طرق سے منقول ومروی ہوتو اس کا ضعف ختم ہوجاتاہے اور وہ روایت ’’حسن لغیرہ ‘‘ کا درجہ حاصل کرلیتی ہے ۔ چنانچہ علامہ زین الدین محمد عبدالرء وف مناوی رحمۃ اللہ علیہ (۱۰۳۱ ؁ ھ )نے ضعیف احادیث کے بارے میں لکھا ہے : وھذہ الاخبار وان فرض ضعفھا جمیعہا لکن لاینکر تقوی الحدیث الضعیف بکثرۃ طرقہ وتعددمخرجیہ الا جاھل بالصناعۃ الحدیثیۃ او معاند متعصب۔ ترجمہ : اگر ان تمام احادیث شریفہ کا ضعیف ہونا فرض کرلیا جائے تب بھی اسناد کی کثرت اور راویوں کے تعدد کی بنیاد پر ضعیف حدیث‘ مضبوط وقوی قرار پاتی ہے ، اس حقیقت کا انکار فن حدیث سے ناواقف شخص ہی کرسکتاہے یا کوئی تعصب پسند مخالف ۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، الابدال من الموالی ) حضرت ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ (۱۰۱۴ ؁ ھ)نے تحریر کیا ہے : وتعدد الطرق یبلغ الحدیث الضعیف الی حدالحسن ۔ ترجمہ : اسناد کی کثرت ضعیف حدیث کو ’’حسن‘‘ کے درجہ تک پہنچاتی ہے ۔ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلوٰۃ ، باب مالایجوز من العمل فی الصلوٰۃ ) امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے مذکورہ حدیث کو شعب الایمان میں الفاظ کے قدرے اختلاف کے ساتھ تین علحدہ اسانید سے ذکر کی ہے۔ اس روایت کی اسناد کے تعدد کی بابت تو امام بیہقی روایت نقل کرنے کے بعدخود فرماتے ہیں: ولھذا الحدیث شواھد من حدیث عائشۃ و ابی بکر الصدیق و ابی موسی الاشعری۔ ترجمہ: اس حدیث پاک کے ’’شواہد‘‘ (اس کی تائید کرنے والی روایتیں) ام المومنین سیدتنا عائشہ صدیقہ‘ سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہم سے منقول ہیں۔ (شعب الایمان‘ ما جاء فی لیلۃ النصف من شعبان‘ حدیث نمبر: 3665‘ 3666‘ 3667)۔واللہ اعلم بالصواب ۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com