***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > نماز کا بیان > نماز تراویح کے مسائل

Share |
سرخی : f 974    تراویح میں شریک ہونے کیلئے رکوع کا انتظار کرنا
مقام : علی آباد,
نام : محمد رافع
سوال:     نماز تراویح میں عموماً یہ دیکھا جاتا ہے کہ جب پہلی رکعت کی ابتداء ہوتی ہے تو بعض نوجوان جماعت میں شامل ہونے کے بجائے امام صاحب کے رکوع میں جانے تک انتظار کرتے ہیں اور پھر جماعت میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ اس طرح کرنا کیسا ہے ؟
............................................................................
جواب:     امام کے تکبیر تحریمہ کے فوری بعد نماز میں شامل ہونا مستحب ہے‘ جماعت قائم ہونے کے باوجود سستی و کاہلی کی بناء پر جماعت میں شامل نہ ہوکر امام صاحب کے رکوع کرنے کا انتظار کرنا‘ مکروہ ہے‘ نماز کے سلسلہ میں سستی و کاہلی منافقین کی علامت ہے‘ جیسا کہ منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَإِذَا قَامُوْا إِلَی الصَّلَاۃِ قَامُوا کُسَالَی یُرَائُ وْنَ النَّاسَ۔ ترجمہ: اور جب وہ نماز کی طرف کھڑے ہوتے ہیں تو کاہل بن کر کھڑے ہوتے ہیں ‘ (وہ بھی عبادت کی نیت سے نہیں بلکہ ) لوگوں کو دکھانے کے لئے (سورۃ النساء۔ 142)  
بندۂ مؤمن کو چاہئے کہ منافقین کے اعمال وعادات سے پرہیز کرے‘ جو شخص خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لئے تکبیر تحریمہ کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرتا ہے اللہ تعالی اسے دوزخ اور نفاق سے بَری فرمادیتا ہے‘ جیسا کہ جامع ترمذی میں حدیث پاک ہے: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ صَلَّی لِلَّہِ أَرْبَعِینَ یَوْمًا فِی جَمَاعَۃٍ یُدْرِکُ التَّکْبِیرَۃَ الأُولَی کُتِبَتْ لَہُ بَرَاءَتَانِ بَرَاءَۃٌ مِنَ النَّارِ وَبَرَاءَۃٌ مِنَ النِّفَاقِ. ترجمہ : سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ تعالی کے لئے چالیس دن باجماعت پہلی تکبیر کے ساتھ نماز اداکی اس کے لئے دوبراء تیں لکھ دی گئیں (1) دوزخ سے خلاصی (2) نفاق سے نجات۔ (جامع ترمذی ‘ ابواب الصلوۃ‘ باب ما جاء فی فضل التکبیرۃ الأولی‘ حدیث نمبر241)
درمختار ‘کتاب الصلاۃ ‘ باب الوتر والنوافل میں ہے: کما یکرہ تاخیر القیام الی رکوع الامام للتشبہ بالمنافق۔ بدائع الصنائع میں ہے : ومنہا أن یکبر المقتدی مقارنا لتکبیر الإمام فہو أفضل باتفاق الروایات عن أبی حنیفۃ۔ اور فتاوی عالمگیری ‘ کتاب الصلاۃ‘ الفصل الأول فی فرائض الصلاۃ میں ہے: وعندھما بعد ما احرم والفتویٰ علی قولھما ہکذا فی المعدن۔
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com