***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > زکوٰۃ کا بیان > سونے چاندی کی زکوٰۃ کے مس

Share |
سرخی : f 979    زکوٰۃ میں کونسی قیمت کا لحاظ کیا جائے؟
مقام : چندرائن گٹہ،انڈیا,
نام : ام کوثر
سوال:    

مفتی صاحب میرا سوال یہ ہے کہ میرے پاس ایک سونے کا ہار ہے جو دس تولہ وزنی ہے،میں اسے ایک سال پہلے خریدا تھا‘ اب مجھے اسکی زکوٰۃ نکالنی ہے تو جس قیمت میں زیور دکان پر بیچا جارہاہے کیا اس کے لحاظ سے اس کی زکوٰۃ نکالوں یا میں نے اُسے جس قیمت میں خریداتھا اُسکے لحاظ سے زکوٰۃ نکالنی چاہئے ؟شریعت کی روشنی میں بیان فرمائیں۔


............................................................................
جواب:    

سونا چاندی جس قیمت میں خریدا گیا زکوۃ کی ادائیگی کے وقت قیمت اس سے مختلف ہوتی ہےٗزکوۃ دینے میں کونسی قیمت معتبر ہوگی؟ اس سلسلہ میں فقہاء کرام نے صراحت کی ہے کہ فقراء کے لئے جو قیمت زیادہ فائدہ مند ہوٗ زکوٰۃ کی ادائیگی میں اس کا اعتبار کیا جائے گا۔چونکہ زکوۃ کی ادائیگی کے وقت بازار میں جو قیمتِ خرید ہے وہ فقراء کے لئے زیادہ نفع بخش ہے اس لئے اس کا اعتبار ہوگا ۔ ردالمحتار میں ہے :یعتبر یوم الاداء بالاجماع وھو الاصح ا ھ ۔ (ردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ ، باب زکوٰۃ الغنم) واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com