***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عبادات > زکوٰۃ کا بیان > زکوة کے مصارف

Share |
سرخی : f 983    کیا سادات کرام کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ؟
مقام : مراد نگر,india,
نام : صفوان احمد
سوال:    

ہمارے احباب میں ایک سید صاحب ہیں میں ان کی مدد کرنا چاہاہتا ہوں کیا زکوٰۃ کی رقم ان کو دی جاسکتی ہے ؟


............................................................................
جواب:    

زکوٰۃ کی ادائی صحیح ہونے کی شرطوں میں ہیکہ زکوٰۃ ایسے شخص کو دی جائے جوبنی ہاشم یعنی سادات کرام سے نہ ہو ‘ بنی ہاشم سے مراد آل علی ‘ آل عباس ‘ آل جعفر ‘ آل عقیل اور آل حارث رضی اللہ عنھم ہیں ۔ فتاوی عالمگیری ج 1 ص 189 میں ہے’’ و لا یدفع الی بنی ھاشم وھم اٰل علی و اٰل عباس و اٰل جعفر و اٰل عقیل و اٰل الحارث بن عبد المطلب کذا فی الھدایۃ ‘‘ چونکہ زکوٰۃ مال کا میل ہوتا ہے جو سادات کرام کی شرافت و نجابت کے اعتبار سے درست نہیں ۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ’’ انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت و یطھرکم تطھیرا ‘‘ ترجمہ : اے اہل بیت اللہ تعالیٰ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کرے اور تم کو مکمل طور پر پاک و صاف کرے ( سورہ احزاب ‘ آیت 33)۔ لھذا شریعت نے ان حضرات کو زکوٰۃ کا مصرف ہی نہیں بنایا اور ان کو زکوٰۃ دینا ناجائز قرار دیا ۔ اگر ان کو زکوٰۃ کی رقم دی جائے تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی ۔ سادات کرام کے اعزاز و احترام کے لحاظ سے مسلمانوں کو چاہئے کہ ان کی خدمت میں پاک و صاف مال سے عطیات و ھدایا پیش کریں ۔ اگر آپ سید صاحب کی خدمت کرنا چاہتے ہیں تو زکوٰۃ کے بجائے رقم بطور ھدیہ ان کی خدمت میں پیش کرسکتے ہیں ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com