***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > عدت وفات کے مسائل

Share |
سرخی : f 1000    نو مہینے بعد شوہر کے انتقال کا علم ہو تو عدت کب سے شمار کی جائے؟
مقام : سداسیو پیٹ،انڈیا,
نام : شریف احمد،
سوال:    

ہمارے محلہ میں ایک خاتون کے شوہر لاپتہ تھے،بہت تلاش کرنے کے بعد بھی ان کا کوئی پتہ نہیں چلا ، بعد میں معلوم ہوا کہ نو مہینے پہلے ان کا انتقال ہو چکا ہے ، اس خاتون کوکتنی عدت گذارنی چاہئیے اور عدت کے دن کب سے شمار کرنا چاہئیے؟


............................................................................
جواب:    

جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے قرآن کریم میں اس کی عدت چار مہینے دس دن بیان کی گئی ہے چنانچہ ارشاد الہی ہے والذین یتوفون منکم ویذرون ازواجا یتربصن بانفسہن اربعۃ اشہر وعشرا ترجمہ:اور تم میں سے جو لوگ وفات پائیں اور(اپنی) بیویاں چھوڑجائیں تووہ اپنے آپ کو چارمہینے دس دن روکی رہیں۔(سورۃالبقرۃ۔ 234) اب رہا یہ مسئلہ کہ جس خاتون کے شوہر کا نو ماہ قبل انتقال ہو جائے اسے عدت کاشمار کب سے کرناچاہئیے ؟اس سلسلہ میں فقہاء کرام نے بیان کیا ہے کہ عدت وفات کا شمار شوہر کی وفات کے وقت سے کیا جائے ۔جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج1کتاب الطلاق الباب الثالث عشر مطلب غاب زوجہا فاخبرت بموتہ ص531/532میں ہے ابتداء العدۃ فی الطلاق عقیب الطلاق وفی الوفاۃ عقیب الوفاۃ فان لم تعلم بالطلاق او الوفاۃ حتی مضت مدۃالعدۃ فقد انقضت عدتہا کذا فی الہدایۃ۔

بنابریں آپ کے محلہ کی جس خاتون کے شوہر کا انتقال ہوچکا ہے اور نو ماہ کے بعد انتقال کی اطلاع ہوئی اس خاتون کی عدت شوہر کے انتقال کے وقت سے شروع ہو چکی اگر چہ ان کو اس کا علم نہ تھااور چار مہینے دس دن گذر نے کے ساتھ ہی عدت ختم ہوگئی۔

واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com