***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > محرمات کے مسائل

Share |
سرخی : f 1321    کیا مطلقہ چچی سے بھتیجہ نکاح کرسکتا ہے ؟
مقام : نانڈیڑ،انڈیا,
نام : عبدالروف
سوال:     ایک صاحب نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس کی عدت گذرچکی ۔ اب ان کا بھتیجہ اپنے چچا کی طلاق شدہ بیوی سے نکاح کرنا چاہتا ہے ۔ کیا شرعاً طلاق شدہ چچی سے بھتیجا نکا ح کرسکتا ہے ۔ کیا یہ رشتہ حرام نہیں ہے ؟
............................................................................
جواب:     اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قرآن مجید میں تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے کہ کونسے رشتے حرام ہیں اور کونسے حلال ہیں ، کن سے نکاح کیاجاسکتا ہے کن سے نہیں ۔  جیساکہ سورة النساء ۔ آیت نمبر 23اور 24میں ارشاد ہے:حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا
وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ ....(
سورة النساء ۔ آیت نمبر 23اور 24 )
ترجمہ :  تم پر حرام کردی گئی تمہاری مائیں ‘ تمہاری بیٹیاں ‘ تمہاری بہنیں ‘ تمہاری پھوپھیاں ‘ تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں ‘ بھانجیاں اور تمہائی وہ مائیں جنہو ں نے تمہیں دودھ پلایا اور تمہاری رضاعی بہنیں ‘ تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں پرورش پارہی ہیں ۔ ان بیویوں سے جن سے تم صحبت کرچکے ہواور اگر تم نے اپنی بیویوں سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں سے نکاح کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں تم پر حرام ہیں جو تمہاری پشت سے ہیں۔
اور یہ بھی حرام ہے کہ تم دو بہنوں کو جمع کرو مگر جو پہلے ہوچکا ۔ بے شک اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے ۔
اور شوہر والی عورتیں بھی (تم پر حرام کردی گئی ہیں ) مگر تمہارے داہنے ہاتھ جن کے مالک ہوجائے ۔ تم پر یہ اللہ کا مقرر کردہ حکم ہے اور ان کے سوا تمہارے لئے تمام عورتیں حلال کردی گئی ہیں ۔  اللہ تعالیٰ نے حرمت والے رشتوں کو تفصیلی طور پر بیان کرنے کے بعد فرمایا: وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ ۔  ترجمہ : اور ان کے سوا دیگر عورتیں تمہارے لئے حلال کردی گئیں۔ (نساء 24) ۔  ا س سے معلوم ہوتا ہے کہ چچا اگر اپنی بیوی کو طلاق دے دے اور اس کی عدت گزرجائے تو بھتیجے کے لئے چچا کی مطلقہ سے نکاح کرنا مباح ہے بشرطیکہ وہ کسی اور رشتہ سے حرام نہ ہو ۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ www.ziaislamic.com
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com