***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > محرمات کے مسائل

Share |
سرخی : f 1371    دوحقیقی بہنوں سے نکاح کاحکم
مقام : انڈیا,
نام : عبداللہ
سوال:     مفتی صاحب ایک مسئلہ دریافت کرنا ہے جلدازجلد جواب مل جائے تو بڑی مہربانی ہوگی ، ایک صاحب اپنی حقیقی سالی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں حالانکہ ان کی بیوی موجود ہے او ریہ دونوں حقیقی بہنیں ہیں ، میں نے انہیں سمجھا یا تو وہ کہہ رہے ہیں کہ میری بیوی خودراضی ہے اور ہم باہمی رضامندی سے یہ نکاح کررہے ہیں اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے، کیا ان کا یہ کہنا درست ہے اس بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں ؟
............................................................................
جواب:     اللہ تعالی نے اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی وساطت سے جو شریعت مقدسہ ودین کامل عطا فرمایا ہے اس پرعمل پیرارہنے ہی میں دنیاوآخرت کی سعادت وبرکت ہے او راس سے سرموانحراف کرنے میں دنیا و آخرت میں خسارہ ہی خسارہ ہے اللہ تعالی اپنی مقد س کتاب قرآن مجید میں آیت تحریم کے ذریعہ حرام رشتوں کی جو تفصیل بیان فرمائی ہے منجملہ ان حرام رشتوں کے ارشاد فرمایا  ۔ ۔ ۔  وان تجمعوابین الاختین الاماقدسلف  (سورۃالنساء۔23)اور تم پر حرام کردیا گیا ہے کہ تم دوبہنوں کو جمع کرو۔  
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا من کان یومن باللہ والیوم الاخرفلا یجمعن ماء فی رحم اختین ۔
ترجمہ:جواللہ تعالی او رآخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہووہ اپنے نطفے کو دوبہنوں کے رحم میں ہر گزجمع نہ کرے ۔(عمدۃ الرعایۃ فی حل شرح الوقایۃ ج 2، ص 12) ایک بہن جب نکاح میں موجودہے تو اس کو بدستور نکاح میں رکھتے ہوئے اس کی حقیقی بہنوں سے نکاح کرنا قرآن وحدیث کی روشنی میں ناجائز و حرام ہے، مخلوق کی خوشنودی کے لئے اللہ تعالی کے حدود سے تجاوز کرنا کسی مومن کے لئے ہرگز جائز نہیں خدانخواستہ اگر اسی مذکورہ سالی سے نکاح کرلیں توساری زندگی حرام کاری میں گذرے گی جس کا دنیا وآخرت میں سخت وبال ہوگا ۔
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com