***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > عدت وفات کے مسائل

Share |
سرخی : f 1420    عدت وفات میں ڈاکٹر کے پاس جانا
مقام : اننت پور،انڈیا,
نام : نوشین اختر
سوال:    

ہماری آنٹی گھر میں تنہا رہتی ہیں،چند دن پہلے انکل کا اکسیڈنٹ میں انتقال ہوچکا ہے،ان کی طبیعت خراب ہوتی رہتی ہے،وہ ایسے وقت ڈاکٹر کے پاس جاسکتی ہیں؟


............................................................................
جواب:    

خواتین علاج کروانے کے لئے خاتون ڈاکٹر سے رجوع ہوں ، اگر خاتون ڈاکٹر نہ ہوں تو مرد ڈاکٹر کے پاس ضرورت کے لئے جانا شرعاً جائز ہے ۔ اب رہا عدت وفات میں گھر سے باہر نکلنے کا مسئلہ تو حکم شریعت یہ ہے کہ عدت وفات گزار رہی خاتون کو چار مہینے دس دن اسی مکان میں سکونت پذیر رہنا چاہیئے جہاں شوہر نے اسے رکھا تھا اور اس مدت کے دوران گھر سے باہر نہیں نکلنا چاہئے ،اگر کسی ضرورت کی وجہ جیسے ملازمت ، علاج ومعالجہ وغیرہ کے لئے گھر سے باہر جانا ناگزیر ہو جائے تو اجازت ہے لیکن اسے اپنے گھر میں ہی آکر اسے رات گزارنی چاہیئے ۔ جیسا کہ فتاوی عالمگیری ج 1 صفحہ 534 میں ہے : المتوفی عنھا زوجھا تخرج نھارا وبعض اللیل ولاتبیت فی غیر منزلھا کذافی الھدایۃ ۔ البحر الرائق ج ،ص میں ہے : والمتوفی عنھا زوجھا تخرج بالنھار لحاجتھا الی نفقتھا ولاتبیت الا فی بیت زوجہا اہ۔ واللہ اعلم بالصواب سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ، ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com