***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > ثبوت نسب کے مسائل

Share |
سرخی : f 276    کیاخون چڑھانے سے حرمت نکاح ثابت ہوتی ہے ؟
مقام : دبئی،امارات,
نام : محمد یحيی
سوال:    

مریض کے جسم میں خون کم ہواور خون کی ضرورت ہوا ور اس کے بغیر صحت وشفاء کی کوئی صورت نہ رہے تو اس اضطراری حالت میں دوسرے کا خون چڑھا یا جاتاہے کیا اسطرح خون چڑھا نے سے خون لینے والے اور خون دینے والے کے درمیان حرمت ثابت ہوتی ہے کیا وہ دونوں آپس میں رشتہ دار ہوجاتے ہیں جیسا دودھ پینے سے حرمت اور رشتہ داری ثابت ہوتی ہے جبکہ خون بھی اس کے جسم کا جزبن جاتا ہے جیسے دودھ بچہ کے جسم کاجزبنتا ہے؟


............................................................................
جواب:    

دودھ پینے کی وجہ سے بچے اور دودھ پلانے والی عورت کے اور اسکے رشتہ داروں کے مابین جو حرمت ثابت ہوتی ہے دراصل یہ حکم عقل اور قیاس کے برخلاف نص سے ثابت ہے اور جن احکام کا عقل ادراک نہیں کرسکتی ان پر قیاس کرکے دوسری جگہ وہی حکم لگانا صحیح نہیں کیونکہ قیاس کے شرائط میں سے ایک شرط یہ ہیکہ اصل بجائے خود قیاس کے مخالف نہ ہو،اگر اصل ہی خلاف قیاس ہوتو اس پر دوسرے مسئلہ کو قیاس نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ نور الانوار ص233 میں ہے ’’فشرطہ۔ ۔ ۔ وان لایکون معدولا بہ عن القیاس ای لایکون الاصل مخالفا للقیاس۔ ۔ ۔ فکیف یقاس علیہ غیرہ ‘‘ حرمت رضاعت کا حکم بھی چونکہ خلاف عقل ہے اس لئے اس پر خون چڑھانے کے مسئلہ کو قیاس نہیں کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں مریض کے جسم میں خون چڑھانا دوا کے طور پر ہوتا ہے جبکہ بچہ کو دودھ پلانا بطور غذا ہے سنن ابوداودشریف باب فی رضاعۃ الکبیرص 281میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے : لارضاع الاماشدالعظم وانبت اللحم ۔ ترجمہ:وہی دودھ حرمت پیدا کرتا ہے جوہڈیوں کو تقویت بخشتاہو او ر گوشت پوست کی نشوونماکا سبب بنتاہو۔ اور مدت رضاعت گذرنے کے بعد بچہ کو غذا کے طور پر بھی دودھ پلایا جائے تو حرمت ثابت نہیں ہوگی کیونکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے دودھ چھڑانے کے بعد رضاعت کا اعتبار نہیں۔ہدایہ ج2 کتاب الرضاع ص350میں ہے ’’واذامضت مدۃ الرضاع لم یتعلق بالرضاع۔ ۔ ۔ بعد الفصال‘‘ چونکہ خون اور دودھ کی نوعیت علحدہ ہے اس لئے جیسے دودھ سے حرمت ثابت ہوتی ہے خون سے ثابت نہیں ہوگی خواہ خون شیرخوار بچہ کے جسم میں چڑھایا جائے یا کسی اور کے ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔ حیدرآباد دکن۔

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com