***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان

Share |
سرخی : f 47    برے خیالات اور وسوسوں سےذہن کوپاک رکہیں
مقام : hyderabad,
نام : عابد علي
سوال:     مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ اکثر مجھکو خیالات آتے ہیں جیساکہ یہ سچ ہوگا یہ نہیں اور تو میرا
د ماغ او باتوں میں ہوتا ہے کہ ہمارے مسلم بھائیوں میں اتنی جماعتیں کیو ں ہیں؟
اگر اسکاجواب مل جائے تو بڑی مہربانی ہوگی ،اللہ آپ کو کامیاب کرے جو یہ دین کا کام کررہے ہیں

............................................................................
جواب:     مجھے یہ معلوم کرنا تھا کہ اکثر مجھکو خیالات آتے ہیں جیساکہ یہ سچ ہوگا یہ نہیں اور تو میرا
د ماغ او باتوں میں ہوتا ہے کہ ہمارے مسلم بھائیوں میں اتنی جماعتیں کیو ں ہیں؟
اگر اسکاجواب مل جائے تو بڑی مہربانی ہوگی ،اللہ آپ کو کامیاب کرے جو یہ دین کا کام کررہے ہیں۔

جواب: ماشاء اللہ آپ میں اسلام کی تعلیم اور مسائل معلوم کرنے کی تڑپ اور جذبہ قابل قدر ہے ،دین اسلام ہی وہ کامل ومکمل دین ہے جسمیں یکجہتی واتحاد کی تعلیم دی گئی، گروہوں اور فرقوں میں بٹنے سے منع کیا گیا،اگر انسان دین حق کی پاکیزہ تعلیمات وعقائد کا بلا چوں وچراحامل وکار بند رہوجائے اور اسمیں اپنے عقل وخیال کو دخل نہ دے توفرقہ وگروہ جود میں نہیں آتا ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح قیامت تک ہونے والے جن احوال وواقعات کی خبر صادق دی ہے ان میں سے ایک روایت درج کی جارہی ہے ،جامع ترمذی شریف ،ابواب الایمان میں حدیث پاک ہے
: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ۔۔۔۔۔وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً قَالُوا وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي-

ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عمر و رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما یا : بنی اسرائیل (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت تہتر (73)فرقوں میں بٹ جائےگی۔ تمام فرقے دوزخ میں جائیں گے سوائے ایک جماعت کے ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا !یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کونسی جماعت ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا :جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔(جا مع ترمذی شریف ،ابواب الایمان ،باب فی افتراق ہذہ الامۃ ، ج 2 ص93 ،حدیث نمبر :2565)
حدیث شریف میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس جماعت کے حق پر ہونے کی تصدیق فرمائی ہے اس میں وارد  : مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي ، جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں ، سے مراد آپ کی سنت کریمہ ہے اور صحابہ بجائے خود ایک جماعت ہے تو اسکا حاصل معنی اہل السنۃ والجماعۃ ہوا۔ یہی حق وصواب پر ہے اس کے ماسوا جو ہیں وہ خطا وضلالت پر ہیں۔  
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ
شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
www.ziaislamic.com

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com