***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > تلاش کریں

Share |
سرخی : f 486    خلیفہٴ چہارم کو شہید کرنے والا کون ؟
مقام : ,
نام : محمد عبد الخالق
سوال:    

میں نے ایک مرتبہ شیعہ لوگوں کے پاس جمعہ کے بیان میں سناکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کسی صحابی نے دھوکہ سے نماز کے دوران تیرسے زخمی یا شہید کردیا ، کیا یہ درست ہے ؟


............................................................................
جواب:    

خلیفہٴ چہارم امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والا بدنصیب شخص فرقہٴ خوارج کا ایک فرد عبد الرحمن بن ملجم تھا، اُس نے زہر آلود تلوار سے آپ پر بدبختانہ حملہ کیا ، جب لوگ اُ س کی طرف لپکے تو لوگوں پر حملہ کرنا چاہا ،صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت مغیرہ بن نو فل رضی اللہ عنہ نے اُس پر چادر ڈال کر اُسے اپنے قابو میں لے لیا ،اُسے زمین پر دے مارا،سینہ پر بیٹھ گئے اور اُس سے تلوار چھین لی پھر ابن ملجم کو قید کیا گیا،بالاٰخر قتل کردیا گیا۔ جیساکہ سبل الہدی والرشاد میں ہے ؛ وهو الذي طرح على عبد الرحمن بن ملجم القطيفة حين ضرب عليا - رضي الله تعالى عنه - على هامته بسيفه، فصرعه، فلما هم الناس به حمل عليهم بسيفه فخرجوا له فتلقاه المغيرة بن نوفل بقطيفة، فرماها عليه واحتمله، وضرب به الارض وقعد على صدره وانتزع سيفه منه، وكان رضي الله تعالى عنه - أيدا أي قويا ثم حمل ابن ملجم وحبس حتى مات علي - رضي الله تعالى عنه – فقتل- (سبل الهدي والرشاد، الباب الرابع عشر في بعض مناقب نوفل بن الحارث بن عبد المطلب) وهو الذي طرح على بن ملجم القطيفة لما ضرب علياً فأمسكه وضرب به الأرض ونزع منه سيفه وسجنه حتى مات على منزلته. (الاصابة في معرفة الصحابة، الميم بعدها الغين) آپ نے جمعہ کے بیان میں جو سنا کہ’’ کسی صحابی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دھوکہ سے شہید کیا ‘‘ یہ صحابہ کرام پر بہت بڑی تہمت اور بہتان ہے ، حقیقت کے خلاف ہے اور کتب سیرة اور کتب تاریخ کے مغائر ہے ، حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام پر طعن و تشنیع کرنے اور اُنہیں ہدف ملامت بنانے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا جیسا کہ جامع ترمذی شریف ج 2 باب فیمن سب اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص 225 میں حدیث پاک ہے؛ عن عبد الله بن مغفل قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « الله الله فى أصحابى الله الله فى أصحابى لا تتخذوهم غرضا بعدى فمن أحبهم فبحبى أحبهم ومن أبغضهم فببغضى أبغضهم ومن آذاهم فقد آذانى ومن آذانى فقد آذى الله ومن آذى الله فيوشك أن يأخذه ». ترجمہ :حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آپ نے فرمایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ سے ڈرتے رہو ،میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بناؤ ،پس جس کسی نے ان سے محبت کی توبالیقین اس نے میری محبت کی خاطر ان سے محبت کی ہے اور جس کسی نے ان سے بغض رکھا تواس نے مجھ سے بغض کی بناء پر ان سے بغض رکھا ہے اور جس کسی نے ان کو اذیت پہونچائی یقینااس نے مجھ کو اذیت دی ہے اور جس نے مجھ کو اذیت دی یقیناً اس نے اللہ کو اذیت دی ہے اور جس نے اللہ کو اذیت دی قریب ہے کہ اللہ اس کی گرفت فرماے۔ ﴿ جامع ترمذی شریف ج 2 ، باب فیمن سب اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم، ص 225، حدیث نمبر؛ 4236﴾ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com