***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > عقائد کا بیان

Share |
سرخی : f 51    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت  نسیان  کا حکم
مقام : حیدرآباد,
نام : syed hashim
سوال:     ایک عالم کہتے ہیں کہ سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسیان (بھول) ہو سکتا ہے ، کیا یہ درست ہے ؟
............................................................................
جواب:     : اللہ تعالی اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ فرمایا کہ ہم آپ کو پڑھائیں گے ، پھر آپ نہیں بھولیں گے ، ارشاد الہی ہے :
سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ-

ترجمہ : ہم آپ کو پڑھائیں گے تو آپ نہیں بھولیں گے مگر جو اللہ تعالی چاہے – (سورۃ الاعلی – 6)
احادیث شریفہ میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف  نسیان کی نسبت مذکور ہو‏ئی ، لیکن یہ درحقیقت  نسیان (بھولنا) نہیں ہے جس طرح عام طور پر انسان بھولتا ہے بلکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے متعلق صراحت کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ میرا یہ عمل صرف اس لئے ہوتا ہے کہ تمہیں تعلیم دوں کہ بھولنے کی صورت میں اس عمل کی تلافی کس طرح کی جائے ، نسیان کے بعد کیا طریقہ اختیار کیا جائے ، جیساکہ مؤطا امام مالک ، ص 68، میں حدیث پاک ہے
: عَنْ مَالِك أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَأَنْسَى أَوْ أُنَسَّى لِأَسُن-  ‏‏

ترجمہ : امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے انہیں یہ حدیث شریف پہنچی کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں اس لئے بھولتا یا بھلایا جاتا ہوں کہ تمہیں طریقہ بتلاؤں – اور شفاء شریف ، ص 335، میں یہ الفاظ ہیں
: لست أنسى ولكن أنسى ليستن بى –

ترجمہ : میں نہیں بھولتا لیکن بھلایا جاتا ہوں تاکہ میری سنت معلوم ہو-
یہ بات عقل وفکر کے اعتبار سے بھی درست ہے کیونکہ اللہ تعالی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے احکام پہنچانے کے لئے مبعوث فرمایا ، اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام لوگوں کی طرح بھولتے تو دشمنان اسلام کا اسلامی تعلیمات پر اعتراض ہوتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کچہ احکام بھول گئے ہیں –
حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بظاھر نسیان جیسا عمل امت کی تعلیم کی خاطر اور پیغام الہی کی تبلیغ کے لئے ہوتا ہے –
مفسرین کرام نے مذکورہ بالا آیت کریمہ کی متعدد تفسیریں کی ہیں :
(1) صاحب روح المعانی علامہ محمد بن عبد اللہ حسین آلوسی رحمۃ اللہ علیہ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسیان متعلق نہیں ہوتا -
  ويكون المراد بقوله تعالى فلا تنسى نفي النسيان مطلقاً عنه عليه الصلاة والسلام امتناناً عليه صلى الله عليه وسلم بأنه أوتي قوة الحفظ -
ترجمہ : ارشاد الہی '' فلا تنسى ''(آپ نہیں بھولیں گے) سے آپ کی ذات اقدس سے مطلق نسیان کی نفی مقصود ہے اس میں اللہ تعالی کی جانب سے آپ پر احسان کا اظہار ہے کہ آپ کو حافظہ کی عظیم قوت عطا کی گئی ہے –
شارح مسلم امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے مختلف معانی بیان کرنے کے بعد علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ کے حوالہ سے اس معنی میں تفصیلی عبارت نقل کی ہے
: وَالْحَقّ الَّذِي لَا شَكّ فِيهِ تَرْجِيح قَوْل مَنْ مَنَعَ ذَلِكَ عَلَى الْأَنْبِيَاء فِي كُلّ خَبَر مِنْ الْأَخْبَار ، كَمَا لَا يَجُوز عَلَيْهِمْ خُلْف فِي خَبَر لَا عَمْدًا وَلَا سَهْوًا ، لَا فِي صِحَّة وَلَا فِي مَرَض ، وَلَا رِضَاء وَلَا غَضَب ، وَحَسْبك فِي ذَلِكَ أَنَّ سِيرَة نَبِيّنَا صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَلَامه وَأَفْعَاله مَجْمُوعَة مُعْتَنَى بِهَا عَلَى مَرّ الزَّمَان ، يَتَدَاوَلهَا الْمُوَافِق وَالْمُخَالِف وَالْمُؤْمِن وَالْمُرْتَاب ، فَلَمْ يَأْتِ فِي شَيْء مِنْهَا اِسْتِدْرَاك غَلَط فِي قَوْل ، وَلَا اِعْتِرَاف بِوَهْمٍ فِي كَلِمَة ، وَلَوْ كَانَ لَنُقِلَ كَمَا نُقِلَ سَهْوه فِي الصَّلَاة وَنَوْمه عَنْهَا -

  ترجمہ :  اور حق بات جس میں کوئی شک نہیں ، ان حضرات کے قول کو ترجیح دینا ہے جو انبیاء کرام علیہم السلام کے حق میں تمام اخبار میں نسیان کو ممنوع قرار دیتے ہیں جس طرح ان سے کسی خبر کا خلاف واقعہ ہونا جائز نہیں ، نہ عمداً نہ سہواً ، نہ صحتیابی میں نہ مرض میں ، نہ رضامندی کی حالت میں نہ غضب کی حالت میں ، اور اس بارے میں تمہیں یہ بات کافی ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ، مبارک کلام ، پاکیزہ اعمال ایک ایسا مجموعہ ہے جس کو زمانہ گذرنے کے باوجود اہتمام سے بیان کیا جاتا ہے ،موافق ، مخالف ، ایمان والا اور شک کرنے والا اختیار کرتا ہے تو کوئی شخص ان میں سے کسی چیز میں ، کسی قول میں غلطی نہیں دیکھا اور نہ کسی کلمہ سے متعلق وہم کی نشاندہی کیا ، اگر غلطی یا وہم ہوتا تو ضرور منقول ہوتا  جس طرح آپ کا نماز سے متعلق سھو اور نوم منقول ہے -    
(شرح مسلم للنووی – ج 1 ص 212)
(2) علامہ قاضی عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سھو ہوا ہے نسیان نہیں – سھو کا معنی کسی چیز کی طرف توجہ نہ ہونا ہے شفاء شریف ج 2 ،ص 139،میں ہے
: ووجه آخر استثرته من كلام بعض المشايخ وذلك أنه قال إن النبي صلى الله عليه وسلم كان يسهو ولا ينسى ولذلك نفى عن نفسه النسيان قال لأن النسيان غفلة وآفة والسهو إنما هو شغل.

اور سبل الہدی والرشاد میں ج 11،ص 468، میں ان الفاظ کا اضافہ ہے
: لان النسيان ذهول وغفلة وآفة، قال: والنبي صلى الله عليه وسلم منزه عنها –

  ترجمہ : دوسری توجیہ جس کو میں نے بعض مشائخ کے کلام سے لیا ہے کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سھو ہوا نسیان نہیں ہوا اس لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ذات سے نسیان کی نفی فرمائی ہے ، ۔۔۔ کیونکہ نسیان غفلت وآفت ہے اور آپ اس سے پاک و منزہ ہیں اور سھو تو کمال استغراق و محویت کی بناء وقوع پذیر ہوتا ہے –
(3) تیسرا معنی یہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نسیان نہیں ہوتا مگر جو اللہ تعالی چاہے اور یہ صورت انتہائی کم و نادر پیش آئی اور یہ بھی  درحقیقت شریعت کے تبلیغی امور و  واجبات میں نہیں ہوا بلکہ آداب و سنن میں ہوا کیونکہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم واجبات میں  سے کچہ بھول جائیں اور یاد نہ آئے تو شریعت میں خلل کا سبب ہے اور ایسا نہیں ہو سکتا  جیساکہ تفسیر کبیر میں ہے
: أن يكون معنى قوله : { إِلاَّ مَا شَاء الله } القلة والندرة ، ويشترط أن لا يكون ذلك القليل من واجبات الشرع ، بل من الآداب والسنن ، فإنه لو نسي شيئاً من الواجبات ولم يتذكره أدى ذلك إلى الخلل في الشرع ، وإنه غير جائز .

(تفسیر کبیر- سورۃ الاعلی)
واللہ اعلم بالصواب –
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ ،
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com