***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > عدت وفات کے مسائل

Share |
سرخی : f 575    عدت وفات سےمتعلق ایک مسلہ
مقام : اننت پور اے پی انڈیا,
نام : محمد عبد المنان
سوال:     میرے چچا ایک حادثہ فوت ہوگئے،یہ حادثہ آج سے پچیس(25) پہلے واقع ہوا، میری چچی اب بھی اپنے بچوں کے ساتھ شوہر کے مکان پر ہی رہتی ہیں، خاندان کی بعض عورتیں کہہ رہی ہیں کہ بیوہ عورت کو چالیس دن سے پہلے ایک رات اپنے میکہ میں رہ کر آنا ضروری ہے!
کیا میری چچی کو چالیس دن سے پہلے ان کے والدین کےگھر جانا ضروری ہوگا؟

............................................................................
جواب:     کسی خاتون کے شوہر کا انتقال ہوجائے اور وہ حاملہ نہ ہو تو ضروری ہیکہ چار مہینے دس دن عدت گذارے، ونیز عدت وفات گذارنے  والی خاتون پر شرعا واجب ہے کہ وہ عدت ختم ہونے تک اسی مکان میں رہے جہاں شوہر کے حین حیات وہ رہا کرتی تھی، اگر کسی ضرورت کے تحت گھر سے باہر جائے یا والدین سے ملنے انکے گھر آئے اور رات کا کچھ حصہ گذر بھی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن اپنے مکان میں رات گذارنا ضروری ہے جیساکہ فتاوی عالمگیری ج1،ص 534/535،كتاب الطلاق,الباب الرابع عشر في الحداد،میں ہے: الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا تَخْرُجُ نَهَارًا وَبَعْضَ اللَّيْلِ وَلَا تَبِيتُ فِي غَيْرِ مَنْزِلِهَا.... لَوْ كَانَتْ زَائِرَةً أَهْلَهَا أَوْ كَانَتْ فِي غَيْرِ بَيْتِهَا لِأَمْرٍ حِينَ وُقُوعِ الطَّلَاقِ انْتَقَلَتْ إلَى بَيْتِ سُكْنَاهَا بِلَا تَأْخِيرٍ وَكَذَا فِي عِدَّةِ الْوَفَاة-  
خاندان کی بعض عورتوں کا کہنا '' کہ بیوہ عورت کو چالیس دن سے پہلے ایک رات اپنے میکہ میں رہنا ضروری ہے"شرعا درست نہیں،آپ کی چچی صاحبہ ان باتوں کی طرف توجہ نہ کریں اور شرعی حکم کے مطابق ختم عدت تک اپنے مکان میں ہی رہیں،جب والدین اور دیگر رشتہ داروں سے ملاقات کے لئے جائيں تب بھی وہ رات اپنے گھر آکر ہی گذاریں-
واللہ اعلم بالصواب
سیدضیاءالدین عفی عنہ ،
نائب شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ
بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔
حیدرآباد دکن۔
All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com