***** دیگر فتاوی مطالعہ کرنے کے لئے داہنی جانب والی فہرست پر کلک کریں *****



مضامین کی فہرست

فتاویٰ > معاشرت > نکاح کا بیان > طلاق کے مسائل

Share |
سرخی : f 935    طلاق دے دونگاکہنے سے کیا طلاق واقع ہوجائے گی ؟
مقام : پھول باغ ، انڈیا,
نام : علیم الدین
سوال:    

عبدالحمید نے اپنی بیوی سے دوران گفتگوکہا میں آپ کے والد کے پا س چل کر دوگواہوں کے سامنے آپ کو طلاق دے دونگا ، دریافت کرنا یہ ہیکہ ان الفاظ سے کیا طلاق واقع ہوچکی یا نہیں شرعی حکم کیا ہے ؟


............................................................................
جواب:    

اگرعبدالحمید نے واقعۃ اپنی بیوی سے یہی کہا کہ میں آپ کے والد کے پا س چل کر دوگواہوں کے سامنے طلاق دے دونگا ،او راس کے بعد طلاق نہیں دی تو چونکہ ان کے مذکورہ الفاظ صیغۂ استقبال پر شامل ہونے کی وجہ سے وعدہ پر دلالت کرتے ہیںاو رحکم شریعت یہ ہے کہ وعدئہ طلاق سے طلاق واقع نہیں ہوتی ۔ اسلئے صورت مسؤل عنہا میں عبدالحمید کی بیوی پر طلاق واقع نہیں ہوئی جیسا کہ بھجۃ المشتاق فی احکام الطلاق ص 13 میں ہے: قال فی الفتح ولایقع باطلقک الااذاغلب فی الحال اھ قال فی الخلاصۃ وفی المحیط لوقال بالعربیۃ اطلق لا یکون طلاقاالا اذاغلب استعمالہ فی الحال فیکون طلاقا ۔ واللہ اعلم بالصواب – سیدضیاءالدین عفی عنہ ، شیخ الفقہ جامعہ نظامیہ بانی وصدر ابو الحسنات اسلامک ریسرچ سنٹر ۔www.ziaislamic.com حیدرآباد دکن

All Right Reserved 2009 - ziaislamic.com