Hindi English
 
 
 

Share |
: مضمون
فضیلت علم پر چالیس احادیث شریفہ

دینی مدارس وجامعات میں  تعلیمی سال کے آغاز پر فضيلت علم دین سے متعلق حضرت شیخ الاسلام عارف باللہ امام محمد انوار اللہ فاروقی بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمۃ والرضوان کے جمع کردہ چالیس  احادیث مع ترجمہ ہدیۂ قارئین کئے جاتے ہیں:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سیدنا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین۔

 

چونکہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ جو شخص چالیس حدیثیں یاد کرے تو اس کا حشر علماء کے ساتھ ہوگا، اس لئے فضائل علم میں چالیس احادیث منتخب کرکے جمع کی گئی ہیں‘ گو ان کے سوا بھی اس باب میں بکثرت احادیث وارد ہیں:

 

(1) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما ، قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العلم افضل من العبادۃ ۔ (خط و ابن عبد البر فی "العلم")۔

 

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے :علم‘ عبادت سے افضل ہے۔

 

(2) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العلم حیاۃ الاسلام و عماد الدین۔ (ابوالشیخ)

 

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم اسلام کی زندگی اور دین کا ستون ہے۔

 

(3) عن ام ھانی ء رضی اللہ عنھا، قالت :قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العلم میراثی و میراث الانبیاء قبلی ۔(فر)

 

ترجمہ:روایت ہے ام ہانی رضی اللہ عنہا سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علم میری اور مجھ سے سابق انبیاء کی میراث ہے۔

 

(4) عن سلمان رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : نوم علی علم خیر من صلاۃ علی جھل۔ (حل)

 

ترجمہ: حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علم کے ساتھ سو رہنا بہتر ہے اس نماز سے جو جہل کے ساتھ ہو۔

 

(5) عن واثلۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: التعبد بغیر فقہ کالحمار فی الطاحون۔ (حل)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: عبادت بغیر فقہ (سمجھ) کے ایسی ہے جیسے گدھا چکی سے باندھا جاتا ہے۔

 

(6) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: قلب لیس فیہ شیء من الحکمۃ کبیت خرب، فتعلموا وعلموا، و تفقھوا ولا تموتوا جھالاً فان اللہ لا یعذر علی الجھل۔ (ابن السنی)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: جس دل میں حکمت نہ ہو وہ مثل ویران گھر کے ہے، پس سیکھو اور سکھاؤ اور سمجھ پیدا کرو اور مت مرو حالت جہل میں کیونکہ اللہ تعالیٰ عذرِ جہل قبول نہیں فرماتا ہے۔

 

(7) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: خیر سلیمان بین المال و الملک والعلم فاعطی الملک والمال لاختیارہ العلم۔ (ابن عساکر‘ فر)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: سلیمان علیہ السلام کو اختیار دیا گیا کہ چاہیں ملک و سلطنت و مال اختیار کریں یا علم‘ انہوں نے علم اختیار کیا جس کے باعث ان کو ملک بھی دیا گیا اور مال بھی۔

 

(8) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لکل شیء طریق و طریق الجنۃ العلم ۔(فر)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ہر چیز کے لئے ایک راستہ ہوتا ہے اور جنت کا راستہ علم ہے۔

 

(9) عن ابی ایوب رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : مسئلۃ واحدۃ یتعلمھا المؤمن خیر لہ من عبادۃ سنۃ و خیر لہ من عتق رقبۃ من ولد اسماعیل‘ و ان طالب العلم و المرأۃ المطیعۃ لزوجھا والولد البار بوالدیہ یدخلون الجنۃ مع الانبیاء بغیر حساب ۔ (ابوبکر النقاش والرافعی فی تاریخہ)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ایک مسئلہ جو مسلمان سیکھے بہتر ہے اس کے لئے ایک برس کی عبادت سے اور آزاد کرنے سے ایسے غلام کے جو اولاد سے اسماعیل علیہ السلام کے ہو‘ اور طالب علم اور جو عورت کہ فرمانبردار اپنے شوہر کی ہو اور جو لڑکا کہ ماں باپ کا فرمانبردار ہو‘ یہ سب انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بغیر حساب کے جنت میں داخل ہوں گے۔

 

(10) عن الحسین بن علی، و ابن عباس ، و انس وغیرھم رضی اللہ تعالیٰ عنھم، قالوا: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم ۔(عب‘ ھب‘ ط‘ ص‘ خط‘ طس)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت حسین بن علی و انس و ابن عباس وغیرہم رضی اللہ عنہم سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

 

(11) عن ابی ذر و ابی ھریرۃ رضی اللہ عنھما قالا : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اذا جاء الموت لطالب العلم وھو علی ھذہ الحالۃ مات و ھو شھید۔ (البزار)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت  ابو ذر و حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: جب طالب علم کو موت آجائے اور وہ حالت طالبِ علمی میں ہو تو وہ شہید مرے گا۔

 

(12) عن سخبرۃ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طلب العلم کان کفارۃ لما مضی ۔(ت)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت سخبرہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: علم کی طلب گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہے۔

 

(13) عن انس رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من طلب العلم فھو فی سبیل اللہ حتی یرجع ۔(حل)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: جو علم طلب کرے سو وہ حق تعالیٰ کی راہ میں رہے گا جب تک کہ لوٹے۔

 

(14) عن انس رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طالب العلم تبسط لہ الملائکۃ اجنحتھا رضی بما یطلب ۔(ابن عساکر)

 

ترجمہ:روایت ہے انس رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: فرشتے طالب علم کے لئے پر بچھاتے ہیں  بسبب رضامندی اس چیز کی جس کو وہ طلب کررہا ہے۔

 

(15) عن ابن عمر رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان المؤمن اذا تعلم باباً من العلم عمل بہ او لم یعمل بہ کان افضل من ان یصلی الف رکعۃ تطوعاً۔ (ابن لال)

 

ترجمہ:روایت ہے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ مسلمان جب ایک باب علم کا سیکھتا ہے خواہ اس پر عمل کرے یا نہ کرے، سو یہ صرف سیکھنا ہزار رکعت نفل پڑھنے سے افضل ہے۔

 

(16) عن انس رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طالب العلم افضل عند اللہ من المجاھد فی سبیل اللہ -(فر)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: طالب علم اللہ کے نزدیک اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے سے افضل ہے۔

 

(17) عن عائشۃ رضی اللہ عنھا، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من انتعل لیتعلم علماً غفرلہ قبل ان یخطو-(الشیرازی)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: جو شخص طلب علم کی غرض سے نکلنا چاہے تو قدم اٹھانے سے پہلے جوتا پہنتے ہی گناہوں کی مغفرت ہوجاتی ہے۔

 

(18) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: من جاء اجلہ و ھو یطلب العلم لقی اللہ تعالیٰ ولم یکن بینہ و بین النبیین الادرجۃ النبوۃ۔ (طس)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: جس کی موت طالب علمی کی حالت میں آجائے تو حق تعالیٰ سے وہ ایسی حالت میں ملے گا کہ اس میں اور نبیوں میں سوائے درجۂ نبوت کے اور کوئی فرق نہ ہوگا۔

 

(19) عن حسان بن ابی سنان، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: طالب العلم بین الجھال کالحی بین الاموات۔ (العسکری فی "الصحابۃ "و ابو موسی فی "الذیل")

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت حسان بن ابی سنان رضي اللہ تعالی عنہ  سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: طالب علم جاہلوں میں ایسا ہے جیسے زندہ مُردوں میں۔

 

(20) عن معاذ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العالم امین اللہ فی الارض ۔(ابن عبد البر فی" العلم")

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: عالم زمین پر اللہ کا امین (نائب) ہے۔

 

(21) عن علی رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العلماء مصابیح الارض و خلفاء الانبیاء، و ورثتی و ورثۃ الانبیاء۔ (عد)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ علماء زمین کے چراغ اور انبیاء کے خلفاء (جانشین) اور میرے اور دوسرے نبیوں کے وارث ہیں۔

 

(22) عن انس رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: العلماء ورثۃ الانبیاء، یحبھم اھل السماء و یستغفر لھم الحیتان فی البحر اذا ماتوا الی یوم القیامۃ۔ (ابن النجار)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت  انس رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: علماء انبیاء کے وارث ہیں جن کو آسمان والے دوست رکھتے ہیں اور جب وہ مرتے ہیں تو قیامت تک دریا میں مچھلیاں ان کی مغفرت کی دعا کرتی ہیں۔

 

(23) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اذا اجتمع العالم والعابد علی الصراط قیل للعابد: ادخل الجنۃ و تنعم لعبادتک‘ و قیل للعالم : قف ھنا، و اشفع لمن احببت فانک لا تشفع لاحد الا شفعت فقام مقام الانبیاء۔ (ابوالشیخ فی "الثواب")

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: جب عالم اور عابد صراط پر ملیں گے تو عابد سے کہا جائے گا کہ جنت میں چلا جا اور عبادت کے سبب سے جنت میں عیش کر‘ اور عالم سے کہا جائے گا کہ یہاں ٹھہر اور جس سے محبت رکھتا ہے اس کی شفاعت کر! جس کی شفاعت تو کرے گا قبول کی جائے گی‘ چنانچہ وہ انبیاء کے مقام میں کھڑا ہوگا۔

 

(24) عن انس، و عمران بن حصین، و ابی الدرداء، والنعمان بن بشیر، قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: یوزن یوم القیامۃ مداد العلماء و دم الشھداء فرجح مداد العلماء علی دم الشھداء۔ (الشیرازی، و الموھبی، و ابن عبدالبر، و ابن الجوزی فی "العلل")

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت انس و حضرت عمران و حضرت ابی الدرداء و حضرت نعمان رضی اللہ عنہم سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: قیامت کے دن سیاہی علماء کی اور خون شہیدوں کا تولا جائے گا اور علماء کی سیاہی کا وزن شہیدوں کے خون سے بڑھ جائے گا۔

 

(25) عن علی رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: عالم ینتفع بہ خیر من الف عابد ۔(فر)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ایک عالم جس سے نفع ہو بہتر ہے ہزار عابدوں سے۔

 

(26) عن انس رضی اللہ عنہ، قال؛ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: صاحب العلم یستغفر لہ کل شیء حتی الحیتان فی البحار۔ (ع)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ہر چیز عالم کے لئے مغفرت کی دعا کرتی ہے‘ یہاں تک کہ مچھلیاں دریا میں۔

 

(27) عن ابی امامۃ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: فضل العالم علی العابد کفضلی علی ادناکم‘ ان اللہ عزوجل و ملائکتہ واھل السماوات والارضین حتی النملۃ فی جحرھا و حتی الحوت لیصلون علی معلم الناس الخیر۔ (ت)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابو امامہ رضي اللہ تعالی عنہ  سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے : عالم کی فضیلت‘ عابد پر ایسی ہے جیسی میری فضیلت تم میں سے کسی ادنیٰ شخص پر‘ یقینا اللہ تعالیٰ اور فرشتے اور آسمان و زمین والے یہاں تک کہ چیونٹی اپنی سوراخ میں اور مچھلیاں، لوگوں کو اچھی بات سکھلانے والے کے حق میں دعا کرتے اور رحمت بھیجتے ہیں۔

 

(28) عن واثلۃ رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ما من شیء اقطع لظھر ابلیس من عالم یخرج فی قبیلۃ۔ (فر)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: کوئی چیز ابلیس کی پیٹھ توڑنے میں زیادہ اثر نہیں رکھتی اس عالم سے جو کسی قبیلے میں پیدا ہو۔

 

(29) عن ابن عباس رضی اللہ عنھما، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: مجالسۃ العلماء عبادۃ ۔(فر)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: عالموں کے ساتھ بیٹھنا عبادت ہے۔

 

(30) عن جابر رضی اللہ عنہ ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اکرموا العلماء فانھم ورثۃ الانبیاء،فمن اکرمھم فقد اکرم اللہ و رسولہ۔ (خط)

 

ترجمہ:روایت ہے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے کہ فرمایا حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: عالموں کی بزرگی (عزت و اکرام) کرو! اس لئے کہ وہ نبیوں کے وارث ہیں، جس نے ان کی بزرگی کی اس نے خدا اور رسول کی بزرگی کی۔

 

(31) عن جابر رضی اللہ عنہ، قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ساعۃ من عالم متکیء علی فراشہ ینظر فی علمہ خیر من عبادۃ العابد سبعین ع

submit

  SI: 57   
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درود وسلام سنتے ہیں  

  SI: 65   
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والا شقاوت سے نکل جاتاہے  

  SI: 41   
اذان کی برکت  

  SI: 47   
آشوب چشم کا فوراً دفع ہونا  

  SI: 68   
قرآن و حدیث سے مسائل کا استنباط کرنا ہرکسی کا کام نہیں  

  SI: 56   
تمام انبیاء و ملائک پر خصوصیت و عظمت آشکار  

  SI: 67   
سرکاردوعالم کی توجہ وعنایت آن واحد میں سب کی طرف  

  SI: 13   
میلاد النبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شرعی حیثیت ۔ قسط اول  

  SI: 60   
درود پڑھنے والے پر اللہ کی رحمتیں  

  SI: 64   
عینِ عبادت نماز میں حکمِ صلوۃ وسلام  

Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved