Hindi English
 
 
 

Share |
: مضمون
میلاد النبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شرعی حیثیت ۔ قسط اول

میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے عنوان پر حضرت شیخ الاسلام عارف باللہ امام محمد انوار اللہ فاروقی بانی جامعہ نظامیہ علیہ الرحمۃ والرضوان کی نفیس تحقیق ملاحظہ کریں ۔

الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام علی سيدنا محمد واله واصحابه اجمعين ۔

اما بعد! اولی الابصار واہل بصیرت پر پوشیدہ نہیں کہ جب آفتاب جہاں تاب عالم کو اپنے نور سے معمور کرنا چاہتا ہے تو قبل طلوع، طرب و سرور کا ایک بیش بہا سامان مہیا ہوجاتا ہے ، جدھر دیکھئے دلربانہ انداز ہے اور فرحت و سرور و مساز ، صحرا کا خوشنما منظر دل کو وسعت آباد بنادیتا ہے۔

وحشت خیز پہاڑوں کا سماں بھی دلوں کو لبھانے لگتا ہے ۔

نسیم کی مستانہ خیز رفتار ہر شاخ و برگ کو وجد میں لاتی ہے ۔

ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا دم بہ دم قالب میں جان تازہ پھونکتی جاتی ہے ۔

تاریکی شب نے حواس کو جو تیرہ و تار بنادیا تھا نورانیت فضا ان کو پھر نورانی بناتی ہے ۔

طیور کے نغمات افسردہ دلوں کو غنچہ کی طرح کھلاتے ہیں۔

وحوش کی گرم جولانیاں دیکھ کر غصہ و فکر دور ہوجاتے ہیں۔

غم، ظلمت شب کے ساتھ منور اور دل ، سرور سے معمور ہوتا ہے۔

یہ سب فیضان اس نور کا ہے جو آفتاب عالمتاب کے ساتھ ایک خاص قسم کا تعلق رکھتا ہے۔

اب غور کیجئے کہ جب اجسام کے روشن کرنے والے آفتاب سے اس قدر فرحت و مسرت ہر طرف جوش زن ہو تو آفتاب روحانی کے قدوم میمنت لزوم سے کس قدر فرحت و سرور کا جوش ہونا چاہئے؟

دیکھئے ! مبداء کائنات ، سرور موجودات صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے ہیں : اَنَا مِنْ نُوْرِ اللهِ وَکُلُّ شَیْءٍ مِنْ نُوْرِيْ۔

یعنی میں اللہ کے نور سے بنا اور ہر چیز میرے نور سے ہی پیدا ہوئی۔ وہی نور ہے جس کی طرف اس آیت شریفہ میں اشارہ ہے۔

اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ –(سورۃ النور:35)

اور ارشاد ہے :

قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ ۔ (سورۃ المائدۃ :15)

یہی مقدس نور ہے کہ جب آدم علیہ السلام کی پیشانی میں آیا ، ان کو مسجود ملائک بنایا ، یہ وہ نور ہے کہ ساکنانِ ظلمت کدۂ عدم کو اس قابل بنایا کہ انوار وجود کا اقتباس کرسکیں۔

اب سنئے !

(مواہب لدنیہ اور شفائے قاضی عیاض و خصائص کبری وغیرہ معتبر کتابوں سے یہ روایتیں لکھی جارہی ہیں) کہ اس معنوی اور اصلی نور کے طلوع کے وقت عالم غیب و شہادت میں کس قدر اہتمام ہوا تھا !

حضرت آمنہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت کی ولادت باسعادت کے وقت مجھ سے ایک ایسا نور نکلا کہ اس سے تمام عالم منور ہوگیا چنانچہ شام کے مکانات مجھے نظر آنے لگے۔

عثمان بن ابی العاص کی والدہ جو میلاد شریف کی رات حضرت آمنہ رضی اللہ تعالی عنہا کی خدمت میں حاضر تھیں ، بیان کرتی ہیں کہ قبل ولادت شریف گھر میں جدھر میں نظر ڈالتی تھی نور ہی نور نظر آتا تھا ، اور اس وقت ستاروں کی یہ کیفیت محسوس ہوئی تھی کہ گویا وہ اس مکان پر ٹوٹ پڑرہے ہیں۔

حضرت شفا رضی اللہ تعالی عنہا ، حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی والدہ بیان کرتی ہیں کہ اس نور سے مجھے اس قدر انکشاف ہوا کہ مشرق اور مغرب تک میری نظر پہنچنے لگی اور روم کے مکانات میں نے دیکھے۔

ہر چند یہ نور جس کی خبریں دی گئیں ظاہرا نور ہی تھا مگر اس کی حقیقت کچھ اور ہی تھی، بصارت کو ہم رنگ بصیرت کرکے کل جسمانی ظلمات کو منور کردینا معمولی نور کا کام نہیں ۔

یہ آفتاب کا نور نہ تھا کہ اجسام کی سطح بالائی پر ٹہر جاتا بلکہ یہ اس ذات مقدس کا نور تھا جو" اَنَا مِنْ نُوْرِ اللهِ " کی مصداق ہے۔

یہ نور اجسام کے اندر سرایت کئے ہوئے تھا –

غرض کہ اس روز عالم میں ایک خاص قسم کی روشنی ہوئی تھی ، جس کے ادراک میں عقل خیرہ ہے، اور اس روز ملائکہ کو حکم ہوا تھا کہ تمام آسمانوں کے اور تمام جنتوں کے دروازے کھول دیں اور زمین پر حاضر ہوجائیں، چنانچہ کل ملائک کمال مسرت سے زمین پر اتر آئے۔

﴿جاری ہے ﴾

submit

  SI: 57   
حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درود وسلام سنتے ہیں  

  SI: 65   
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے والا شقاوت سے نکل جاتاہے  

  SI: 41   
اذان کی برکت  

  SI: 47   
آشوب چشم کا فوراً دفع ہونا  

  SI: 68   
قرآن و حدیث سے مسائل کا استنباط کرنا ہرکسی کا کام نہیں  

  SI: 56   
تمام انبیاء و ملائک پر خصوصیت و عظمت آشکار  

  SI: 67   
سرکاردوعالم کی توجہ وعنایت آن واحد میں سب کی طرف  

  SI: 13   
میلاد النبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی شرعی حیثیت ۔ قسط اول  

  SI: 60   
درود پڑھنے والے پر اللہ کی رحمتیں  

  SI: 64   
عینِ عبادت نماز میں حکمِ صلوۃ وسلام  

Copyright 2008 - Ziaislamic.com All Rights reserved